مجلس اتحاد المسلمین بیدرکی جانب سے وزیر اعلیٰ کرناٹک یڈو رپا کو یادداشت

تازہ خبر قومی

بیدر6؍جنوری
عبدالصمد منجوالا
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیدر کی جانب سے ریاستی وزیر اعلیٰ کرناٹک یڈو رپا کو اُن کی بیدر آمد کے موقع پر ایک یا دداشت پیش کی گئی جس میں قدیم سرکاری دواخانہ کو جو میٹر نیٹی اینڈ چلڈرنس ہاسپٹل بنایا گیا ہے ۔ اور جس کو 100بیڈ کا درجہ دیا گیا ہے ۔اُس میں سابقہ کی طرح تمام ایمر جینسی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مطالبہ کیا گیا اور BRIMSہاسپٹل کی بے قاعدگیوں پر توجہ دلاتے ہوئے بیدر میڈیکل کالج میں پوسٹ گریجویشن کا کورس شروع کرنے کی بات بھی کی گئی اور کہا گیا کہ اس سے یہاں کے میڈیکل گریجویٹس کو MDکرنے کیلئے آسانی ہوگی ۔ میمورینڈم میں بتایا گیا کہ پینے کے پانی کی فراہمی 24×7اور UGDکیلئے 100کروڑ سے زیادہ رقم خرچ ہوئی لیکن نتیجہ میں آج بھی بیدر بالخصوص قدیم شہر کی عوام پینے کے پانی کیلئے ترس رہی ہے اس کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں اور KUIDFCکے اور بلدیہ کے ذمہ داروں اور گتہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔مزید یہ کہ بیدر نہ کوئی تجارتی مرکز ہے اور نہ زرعی علاقہ اس لئے اس کی ترقی کیلئے بڑی انڈسٹریز اور صنعتیں قائم کر نے کیلئے بیدر کو (NIMZ)National Ivestment & Manufacturing Zoneقرار دیا جائے ۔ اور اس جانب خصوصی توجہ دی جائے ۔تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوسکے اور بیدر ترقی یافتہ بن جائے ۔بیدر میں ایک سرکاری انجنئیرنگ کالج اور (BUMS) میڈیکل کالج کی بھی سخت ضرورت ہے اس جانب بھی اقدامات کئے جائیں۔ شادی بھاگیہ اسکیم کو بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیاگیا تاکہ غریب مسلم لڑکیوں کی شادیوں میں آسانی ہو۔اور یادداشت کے آخر میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ کمیشن برائے اقلیتی زبان کی سفارشات کے مطابق اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیاجائے۔کیونکہ ریاست کرناٹکا میں 15%سے زیادہ اور علاقہ کلیان کرناٹکا میں 20%سے زیادہ اس زبان کے بولنے اور لکھنے پڑھنے والے لوگ رہتے ہیں ۔سید منصور احمد قادری نے اُمید ظاہر کی کہ ریاستی وزیر اعلیٰ ان تمام باتوں پر توجہ دیتے ہوئے اُن کے حل کے لئے بھی اقدامات کریں گے