محرم کا مہینہ بڑا اہم ہے اور اس مہینہ میں کی جانے والی عبادتوں کا بڑا اجر وثواب ہے ۔مولانا ندیم الواجدی

تازہ خبر مذہبی
دیوبند،8؍اگست
(رضوان سلمانی)
معروف عالم دین اور مہانامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ مولانا ندیم الواجدی نے محرم کے تعلق سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسینؓ کی شہادت کا الم ناک واقعہ محرم الحرام میں پیش آیا، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس ماہ کی جو کچھ تاریخی اہمیت اور شہرت ہے وہ اسی واقعۂ شہادت کی وجہ سے ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے، یہ محض اتفاق ہے کہ شہادت حسین ؓ کے لیے اللہ رب العزت نے وہی دن منتخب فرمایا جو عاشورۂ محرم کا ہے، یہ مہینہ طلوعِ اسلام سے قبل بھی عظمت اور اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا، اسلام آیاتو اس نے بھی اس مہینے کے تقدس کو برقرار رکھا ۔
انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے نفلی روزوں کا بڑا اجر وثواب ہے، ایک حدیث میں ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے روزے ہیںاس حدیث میں ماہ محرم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ مہینہ نہایت اہم ہے اور اس مہینے میں کی جانے والی عبادتوں کا بڑا درجہ ہے، یوں بھی یہ مہینہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کو زمانۂ جاہلیت میں بھی قابل احترام سمجھا جاتا تھا ۔
مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ قرآن کریم میںہے :حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کا شمار کتاب الہی میں اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین پیداکئے ، ان میں مخصوص چار مہینے احترام کے ہیں،یہی سیدھا راستہ ہے ، لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم مت کر لینا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ وہ چارمہینے یہ ہیں: محرم، رجب، ذی قعدہ اورذی الحجہ، ان چار مہینوں کو حرمت والے مہینے کہنا دو اعتبار سے ہے ایک یہ کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے اور دوسرے یہ کہ یہ مہینے واجب الاحترام اور لائق تعظیم ہیں ، ان متبرک مہینوں میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے ، ان میں سے پہلا حکم اسلام میں منسوخ ہو گیا چنانچہ غزوۂ حنین،محاصرۂ طائف وثقیف ان ہی مہینوں میں ہوا ہے ،
البتہ ان مہینوں کا ادب واحترام بہ دستور باقی وبرقرار ہے ، ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مقررہ احکام اور ادب واحترام میں خلل اندازی کر کے اپنا نقصان کرنا ، پھران چاروں میں بھی ماہ محرم کو فضیلت دی گئی ہے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’رمضان کے بعد سب سے بہترین روزے محرم کے ہیں‘‘ ۔ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: ’’جس نے محرم کے ایک دن کا روزہ رکھا اس کے لیے ایک دن کے بدلے تیس دنوں کا ثواب ہے‘‘۔
 مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ یوں تو یہ مہینہ ہی مبارک اور محترم ہے بالخصوص اس ماہ کی دسویں تاریخ کو بڑی فضیلت حاصل ہے، اسے عاشورۂ محرم بھی کہتے ہیں، مؤرخین کے مطابق اس تاریخ کو دنیا میں اہم ترین واقعات پیش آئے، مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اسی دن قبول ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اپنے مسافروں سمیت حفاظت وسلامتی کے ساتھ اسی دن جودی پہاڑ پر ٹھہری، اسی دن بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات عطا کی گئی اور فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کیا گیا،
 حضرت عائشہ الصدیقہؓ کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ قریش زمانۂ جاہلیت میں یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعثت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھتے تھے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو (حسب سابق) عاشورہ کا روزہ رکھا ، مگر رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد آپ نے اس کا اہتمام ترک کردیا اور فرمایا جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔
 روایات میں ہے کہ جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دیکھا کہ وہ یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں، دریافت فرمایا اس دن کا روزہ کیوں رکھتے ہو، عرض کیا گیا کہ یہ بہترین دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات عطا فرمائی اور اس کی قوم کو غرق کردیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بہ طور تشکر اس دن کا روزہ رکھا، ہم بھی اس خوشی میں روزہ رکھتے ہیں،
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کے تم سے زیادہ حق دار ہیں، اس کے بعد سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا شروع فرمادیااور صحابہ کو بھی حکم دیا کہ وہ اس دن کا روزہ رکھیں ایک روایت میں یہ بھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ تو ضرور رکھو لیکن یہود کی مخالفت بھی کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد والے دن کا روزہ بھی رکھ لیا کرو (یعنی ۹/۱۰ محرم کا روزہ رکھو یا ۱۰/ ۱۱ کا روزہ رکھو) فقہاء نے تصریح کی ہے کہ دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم یا گیارھویں کا روزہ بھی رکھنا چاہئے اگر کسی نے صرف دس تاریخ کا روزہ رکھا اور نویں یا گیارھویں تاریخ کا روزہ نہیں رکھا تو یہ روزہ مکروہ ہوگا ان دو روزوں کی بڑی فضیلت ہے ، حضرت قتادہؓ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
ذخیرۂ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ عاشورۂ محرم کی بڑی اہمیت ہے اور یہ مہینہ بڑی رحمتوں اوربرکتوں والا ہے اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نفلی عبادات کا اہتمام کیا جائے، خاص طور پر نویں دسویں یا دسویں گیارھویں تاریخوں کا روزہ رکھا جائے، عاشورۂ محرم میں روزوں کے علاوہ نہ کسی دوسری خود ساختہ عبادت یا رسم کا حکم دیا گیا ہے اورنہ مسلمانوں کو ان خرافات میں پڑنا چاہئے جو محرم کے مہینے میں ضروری سمجھ لی گئی ہیں۔