امریکہ میں 13 دنوں میں 3 مسلمانوں کا قتل

تازہ خبر عالمی
نفرت انگیز جرائم کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں۔جوبائیڈن
نئی دہلی : 8؍اگسٹ
(زین نیوز ویب ڈیسک)
  امریکہ کے شہر نیو میکسیکو میں 5؍اگست کو ایک مسلمان نوجوان کو قتل کر دیا گیا۔ اس کی شناخت نعیم حسین (25) کے طور پر ہوئی ہے۔ قتل کی وجہ بھی سامنے نہیں آئی۔ پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ 13 دنوں میں یہ تیسرا قتل ہے۔
البوکرک کے پولیس چیف ہیرالڈ میڈینا نے بتایا – مسلم کمیونٹی کے ایک اور شخص کو قتل کیا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں گزشتہ دو ہفتوں میں ہونے والی ہلاکتوں کا تعلق نومبر 2021 میں محمد احمدی کے قتل سے ہے۔ 62 سالہ احمدی افغان مسلمان تھا۔
تاہم چیف نے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دی کہ ان ہلاکتوں کا کیا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا- فی الحال ہمیں شبہ ہے کہ قتل کا ایک دوسرے سے تعلق ہے۔ تحقیقات کے بعد ہی معاملہ واضح ہوگا اور قتل کی وجہ معلوم ہوگی۔ یہ تمام قتل کس نے کیے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔27 سالہ محمد افضل حسین کو 26 جولائی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے بعد یکم اگست کو آفتاب حسین (41) نامی شخص کو بھی قتل کر دیا گیا۔ تیسرا قتل 5 اگست کو ہوا۔ ابھی تک اس کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ قتل کیے جانے والے محمد احمدی سمیت چار مسلمان ایک ہی مسجد میں جاتے تھے۔عہدیدار نے بتایا کہ چاروں افراد نیو میکسیکو کے اسلامک سینٹر جاتے تھے۔ ہم مسجد میں آنے اور جانے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ ان ہلاکتوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا ہے۔ مسجد میں خدمت کرنے والے بہت سے لوگوں نے بھی یہاں آنا چھوڑ دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں نسلی تشدد کے ساتھ ساتھ مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں فوجداری انصاف کے پروفیسر برائن لیون نے کہا کہ 2020 کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ 2021 میں اس میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔
صدر جو بائیڈن نے مسلمانوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا – میں البوکرک شہر میں ہونے والی ہلاکتوں سے دکھی ہوں۔ ان کے اہل خانہ کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں۔
ایسے نفرت انگیز جرائم کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انتظامیہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ ہے۔ کیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔