مرحوم انتہائی باصلاحیت علم دوست عظیم مصنف اور کسی بھی موضوع پر لکھنے کی صلاحیت کے حامل تھے: پروفیسر انیس احمد  

تازہ خبر قومی
مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری
دیوبند، 14؍ ستمبر
(رضوان سلمانی) 
معروف قلم کار اور دارالعلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی پیغامات اور تعزیتی اجلاس کا سلسلہ جاری ہے ، اسی تناظر میں جامعہ عربیہ اسلامیہ بڑھانہ میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں قرآن خوانی اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر حافظ محمد اللہ صدیقی نے مرحوم کی سرپرستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سیدھے سادھے عالم تھے ، ایسے عالم کا خسارہ پورا ہونا مشکل ہے۔
 انہو ںنے کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کا قلم زمانہ کے اعتبار سے بہت وسیع تھا ، بندہ کی چند کتابوں میں مرحوم کی تقریظ موجود ہیں جو آپ کو ہمیشہ یا د کیاجاتا رہے گا۔ انہو ںنے کہا کہ موصوف جامعہ بڑھانہ کے اول سرپرست تھے ، بڑی سادگی کے ساتھ ادارہ میں تشریف لاتے تھے ، اب ان کی جگہ کو کون پُر کرے گا ۔
 اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے۔ اس موقع پر قاری محمد عارف، ماسٹر الحاج علی حسن، محمد محسن، نسیم احمد، محمد ریحان، قاری عبدالکریم، عبدالعلیم سمیت ادارہ کے اساتذہ اور طلبہ موجود رہے۔ اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج پریاگ راج کے پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کے سانحہ وفات کی خبر موصول ہوئی، دل کسی بھی طرح سے انھیں مرحوم سمجھنے کے لئے آمادہ نہیں تھا،لیکن اس حقیقت کو تسلیم کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں تھا جس سے شدید رنج و غم کا سامنہ کرنا پڑا۔
 شاہ صاحب میرے بچپن کے دوست اور ہم سبق تھے۔ طالبعلمی کے زمانہ میں مرحوم کے مکان واقع محلہ خانقاہ پر کئی ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر تکرار میں حصہ لینا ہر روز کا مشغلہ تھا۔ مصروفیات زندگی اور میرا ملازمت کے سلسلہ میںالہ بادمیں منتقل ہونے کے باعث ملاقات کا سلسلہ کم ہو گیا لیکن جب بھی کبھی ملاقات ہوتی یا ٹیلیفون پر گفتگو ہوتی تو وہی خلوص وہی ایثار نظر آتا تھا جو گزشتہ زمانہ میں تھا اور عادت ثانیہ میں شامل تھا۔ مرحوم انتہائی باصلاحیت علم دوست عظیم مصنف اور کسی بھی موضوع پر لکھنے کی صلاحیت کے حامل تھے۔ تیرہ سال کے عمر سے ہی مضمون نگاری شروع کر دی تھی ۔
بلا کی ذہانت ورثہ میں ملی تھی ہر روز کسی نہ کسی اخبار و رسائل میں مرحوم کا مضمون پڑھنے کو مل جاتا تھا۔ مرحوم کے انتقال سے صحافت میں جو خلاء پیدا ہوا ہے زمانہ قریب میں اس کا پُر ہونا امر محال ہے، اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے سرفرازی فرمائے، جملہ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔