مرکزی حکومت کے خلاف نظام ہشتم کی نواسی کی ہائی کورٹ میں درخوا ست

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد:5؍فروری
نمائندہ خصوصی
نظام ہشتم نواب میر عثمان علی خان بہادر کی نواسی نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوکرشکایت کی کہ مرکزی حکومت نے آصف جاہ سابع سے کے صرف دو نرینہ ورثا ہی کو حق وراثت کاحصہ دیا اور خاتون وارثوں کو نظرانداز کیاہے۔سلطنت عثمانیہ کے آخری تاجدار نواب میر عثمان علی خان بہادرکی نواسیوں میں سے ایک شہزادی فاطمہ فوزیہ کی بیٹی شہزادی شفیعہ سکینہ ہے۔ شہزادی شفیعہ نے اپنی درخواست میں کہا کہ میری والدہ اور ان کی ہمشیرہ آمنہ مرضیہ نظام کی دو نواسیاں ویڈنگ گفٹ کے ذریعہ نظام ٹرسٹ سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، جب کہ وہ اور ان کی بہن شہزادی نقیہ زینب مذکورہ ٹرسٹ سے حتمی فائدہ اٹھانے والے ہیں۔لیکن مرکزی حکومت نے نظام کے پوتے شہزادہ مکرم جاہ بہادر اور شہزادہ مفخم جاہ بہادر کو نٹ ویسٹ بینک لندن میں جمع کردہ 35 ملین پاؤنڈز میں سے 98 فیصد رقم دے دی۔ انہوں نے کہا کہ انڈین یونین اور دو نرینہ ورثاء کے درمیان معاہدہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔انہوں نے کہا کہ نظام کے دیگر نام نہاد قانونی ورثاء میں صرف پانچ لاکھ پاؤنڈ ہی تقسیم کۓ جاسکتے ہیں۔ قانونی اخراجات کرنے کے بعد یہ رقم 3،47 ، 118.53 پاؤنڈ کی ہوگی۔ سکینہ نے اسے ایک غیر منصفانہ اور غیر منصفانہ تصفیہ قرار دیتے ہوۓ عدالت العالیہ سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔