عزیزو اقارب کے علاوہ حلقہ ٔ احباب میں بھی سخت صدمہ

دیوبند، 13؍ اپریل
(رضوان سلمانی)
دارالعلوم دیوبند کے سابق مبلغ مولانا سید ارشاد مرحومؒ کے بڑے صاحبزادے اور جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود مدنی کے برادرنسبتی مولانا احمد رشاد کے انتقال پر دیوبند کا ماحول مغموم ہے،بدھ کے روز بعد نماز عصر مرحوم کی قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ واضح رہے کہاکہ مولانا احمد رشاد کا انتقال منگل روز کے ممبئی سے دہلی آتے ہوئے فلائٹ میں ہوگیاتھا،
جس کے سبب دہلی ایئر پورٹ پر سخت قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ایئر پورٹ سے قریب 24؍ گھنٹے بعد لاش اہل خانہ کو مل سکی،جس کے بعد نماز عصر کے بعد ان کی تدفین عمل میں آئی۔ مرحوم انتہائی خو ش مزاج ،ملنسار اور یار باش طبیعت اور متعدد خوبیوں کے مالک انسان تھے، حالانکہ وہ گزشتہ کافی عرصہ سے ممبئی میں مقیم تھے لیکن دیوبند میں ان کے احباب کا حلقہ انتہائی وسیع ہے،
جہاں شدید رنج و غم کا ماحول ہے اور اپنے زندہ دل دوست کے اچانک انتقال پر ان کا پورا حلقہ ٔاحباب سخت صدمہ میںہیں، وہیں اہل خانہ کے اور متعلقین کے علاوہ علمی حلقوں میں بھی مرحوم کے انتقا ل پر سخت رنج و الم کی کیفیت ہے۔مسلم فنڈ دیوبند کے اسسٹنٹ منیجر سید آصف حسین نے مرحوم مولانا سید احمد رشاد کے اچانک انتقال پر گہرے صدمہ کا اظہار کیا اور اپنے دیرینہ تعلق کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم نہایت خوش مزاج اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
جمعیۃ علماء ہند اترپردیش کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمد مدنی نے مولانا سید احمد رشاد کی اچانک وفات پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی اچھائیوں پر روشنی ڈالی اور کہاکہ مرحوم گزشتہ کافی عرصہ سے ممبئی میں مقیم تھے لیکن ان کا دل ہمیشہ دیوبند میں رہتا اور جب بھی یہاںآتے سبھی کا حق ادا کرتے تھے، حلقہ احباب وسیع ہونے کے باوجود کبھی کسی کو نہیں بھولتے تھے اور اجتماعی و فرداً فرداً سبھی سے نہ صرف بے تکلف ملاقات کرتے بلکہ پرانی یادیں تازہ کرکے رکھتے تھے۔
عظیم احمد عثمانی، قاضی فرحان اور وسیم صدیقی نے مولانا سید احمد رشادکے انتقا ل پر گہرے افسوس کااظہار کیا اور کہاکہ مرحوم مولانا احمد رشاد ہمارے بہترین اور قدیم دوست تھے ،ملنسار،خوش اخلاق اور نیک طبیعت انسان تھے ان کے ساتھ طویل زمانہ گذرا ہے ،اچانک ان کے انتقال گہرا صدمہ ہواہے، ایسے خوش مزاج اور زندہ دل لوگ بہت کم ہوتے ہیں، اللہ ان کی مغفرت کاملہ فرمائے۔
راشد جمال عرشی ،اسامہ ملک ، سالم گل ،سید وجاہت شاہ اور ڈاکٹر عدنان نعمانی نے کہاکہ مولانا احمد رشاد جیسے دوست کی جدائی نے بے پناہ غم کی کیفیت سے دوچار کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرحوم نہایت خوش اخلاق اور زندہ دل انسان اور بہت سے خوبیوں کے مالک تھے ،ان کے انتقال پر متعلقین اور عزیزو اقارب کے علاوہ ان کے حلقہ احباب کو گہرا صدمہ ہواہے، اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
