اکبر الدین اویسی کو راحت استعال انگیز تقریر کے الزامات سے بری

تازہ خبر تلنگانہ

حیدرآباد: 13؍اپریل
(زین نیوز)
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اکبر الدین اویسی کے استعال انگیزتقریر کے الزامات کے مقدمات کو خارج کرتے ہوئے باعزت بری کردیا۔

واضح رہے کہ اکبر الدین اویسی دسمبر 2012 میں اکبر نے نظام آباد اور نرمل میں مذہبی منافرت پر مبنی تقاریر کرنے کے معاملے میں مقدمات درج کیے گئے تھےجس کے بعد مقدمات درج کرلئے گئے تھے۔مقدمات کی سماعت کرنے والی ایم پی اور ایم ایل ایز کی خصوصی سیشن نامپلی عدالت نے انہیں بری کر تے ہوئے بے قصور قررار دیا

 نامپلی سیشن کورٹ نے اکبر الدین کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے دو مقدمات کو خارج کر دیا عدالت نے کیس میں 30 سے ​​زائد گواہوں کو سنا۔عدالت نے کہا کہ استغاثہ اکبر الدین کو مجرم ثابت کرنے کے لیے مناسب ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔تاہم عدالت نے اکبرالدین کو ہدایت کی کہ وہ قومی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے مستقبل میں کوئی متنازعہ تقریر نہ کریں۔ایسی تقاریر ملک کی سالمیت کے لیے اچھی نہیں ہوتیں

عدالت نے اکبر الدین اویسی کے ریمارکس پر سرزنش کی اورہدایت دی کہ عدالت کی جانب سے مقدمات خارج کرنےکی خوشی میں جشن سے گریز کریں

اکبرالدین کی دسمبر 2012 میں تلنگانہ کے نظام آباد اور نرمل میں دی گئی مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے لیے مقدمہ چل رہا تھا۔منگل کو عدالت نے دونوں مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

اس سے قبل اکبر الدین اویسی کے خلاف 8 دسمبر 2012 کو نظام آباد ضلع میں نفرت انگیز تقریر کے کئی معاملات میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور 22 دسمبر 2012 کو نرمل شہر کو گرفتار بھی کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

https://twitter.com/asadowaisi/status/1514180469658554369
اس کے بعد کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے 2016 میں نظام آباد کیس کی جانچ کرکے چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اسی سال ضلع پولس نے نرمل معاملہ میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ نظام آباد کیس میں 41 جبکہ نرمل کی نفرت انگیز تقریر کیس میں 33 گواہوں کو پیش کیا گیا۔

ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے ٹویٹر ہنڈل سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ

الحمدللہ اکبر الدین اویسی کو ایم پی/ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے ان کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں دو فوجداری مقدمات میں بری کر دیا ہے۔ ان کی دعاؤں اور تعاون کے لیے سب کا مشکور ہوں۔ ایڈوکیٹ عبدالعظیم صاحب اور سینئر وکلاء کا خصوصی شکریہ جنہوں نے اپنا قیمتی تعاون فراہم کیا۔