کسانوں کی مخالف حکومت تاریخی تحریک ۔عوام کی بھرپورتائید

بین الریاستی تازہ خبر

ارپناجنتاچیرٹیبل ٹرسٹ کے جشن جمہوریہ کے موقع پر ٹرسٹی ایڈوکیٹ مہشوری پانڈے اوردیگرکاخطاب
حیدرآباد:29؍جنوری
نمائندہ خصوصی
نومبر 1949 کوہمارے ملک بھارت کاآئین ڈاکٹربھیم رائو امبیڈکرکی سربراہی میں ‘ دوسال گیارہ ماہ اوراٹھارہ دن میں26 مکمل کرتے ہوئے ایوان میں پیش کیاگیا تھا۔ جسے 26 ؍جنوری 1950 ء سے پورے ملک کے لیے نافذ کیا گیاتھا۔ ڈاکٹرامبیڈکر کی سربراہی میں آئین سازی کے لیے تشکیل دی گئی اس ڈرافٹنگ کمیٹی کی کل 166 دن کی میٹنگیں منعقد ہوئی تھیں اوران تما م میٹنگوں کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پریس اورعوام کوبھی شامل ہونے کی اجازت تھی۔آج یہی آئین عوام کے بجائے ملک کے تاجروں کے ہاتھوں میں آگیا ہے جسے وہ بدلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہندوستان میں جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی کوشکست ہوئی آج بھی امبانی اوردیگرتاجرین کوبھی عوام شکست دے گی۔ ارپنا جنتاچیرٹیبل ٹرسٹ کے تحت جشن آزادی پروگرام سے ٹرسٹ کے منیجنگ ٹرسٹی محمدواحدعلی خان ایڈوکیٹ خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے ٹرسٹ کی تعلیمی سرگرمیوں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ارپنا جنتاچیرٹیبل ٹرسٹ نے کووڈ19 میں آن لائن اسپوکن انگلش کلاسس کااہتمام کیا تھا۔ٹرسٹ لاک ڈائون کے تعلیم پرپڑتے اثرات ‘ معاشی طورپر کمزورطلباء کی مدد کے لیے مزیدپلا ن کررہا ہے ۔ ارپنا جنتاچیرٹیبل ٹرسٹ کے ٹرسٹی محترمہ مہیشوری پانڈے ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے پرانے شہر میں تعلیم نظام اورغربت کے خاتمہ کے لیے سرگرم عمل ہے ۔ ٹرسٹ خاموش خدمت پرزوردے رہی ہے۔ ٹرسٹ کامقصدنصابی سرگرمیوں کامستقل انعقاد‘ جدید تعلیمی اصولوں پرمشتمل ہے ۔ اس موقع پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری نے ٹرسٹ کے ذمہ داروں کومبارکباددیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کے شہری آئین کے نفاذ کا جشن ’’یوم جمہوریہ ‘‘ کے نام پرملک کے کونے کونے میں بڑے ہی دھوم دھام سے مناتے ہیں خصوصاً ملک کی راجدھانی دہلی میں یوم جمہوریہ کا جشن دیدنی ہوتا تھا۔ لیکن وقت اورحالات نے اس جشن کے رنگ کوکچھ اورہی شکل دے دی ۔ بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا دن پہلی بار سیاہ یوم جمہوریہ کے طورپر دیکھاجائے گا۔ کسانوں کے قوانین ‘ مسلم پرسنل لاء پر حملے کے ساتھ قوانین میں ترمیمی کے نام پراقلیتوں پرظلم وجبرکیا جارہا ہے۔ تاریخ‘موجودہ دورکوکس نام سے یادکرے گی۔ اس بارے میں توکچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ پہلے توایسی کوئی مثال ہی موجود نہیں ۔ نہ توکبھی پہلے کورونا کارونا تھا اورنہ اس کے دوران کوئی حکومت مخالف تحریک اتنی شدت کے ساتھ چلی تھی‘ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری نے کہاکہ اقلیتوں کوچاہئے کہ وہ کسانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکرکسان مخالف بل کی مخالفت کریں۔ آج کئی خواتین ‘ نوجوان اوربزرگ دہلی اوراس کے اردگردکے احتجاجی مقامات پرپورے عزم کے ساتھ موجود ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگرشعبہ جات وکلاء‘ صحافی‘پیشہ تدریس اوردیگرپیشہ جات کے افراد جوکسان نہیں ہیں وہ اپنی حمایت درج کریں۔اس موقع پردیگراسکالرس نے بھی خطاب کیا۔ ارپن جنتاچیرٹیبل ٹرسٹ کے ٹرسٹی ماسٹرڈاکٹرلئیق احمدکی جانب سے آ ن لائن چلائی جارہی اسپوکن انگلش کلاسس کے اختتام پرطلبہ میں سرٹیفکیٹ بھی پیش کئے گئے۔ کنوینراجلاس ماسٹرڈاکٹرلئیق احمدنے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔