’’کمبھ میلہ‘‘ میں کوووڈ پروٹوکول پوری طرح سے نظرانداز ۔ ملک میں کورونا کے بھیانک اضافہ کی وجہ

تازہ خبر قومی

نئی دہلی ۔14؍اپریل
(ایجنسیز)
اتراکھنڈ کی حکومت اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال کے بعد ہری یوار میں میگا کمبھ میلہ طئے شدہ تاریخ سے دو ہفتے قبل ہی ختم کیا جانے کا امکان ہے۔سینکڑوں ہزاروں افراد سالانہ تقریب میں دریائے گنگا کے کنارے اشنان کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔

انفکشن میں ملک بھر میں اضافے کے دوران کووڈ۔19 کے کیسوں میں غیر معمولی اضافے کے خدشات بڑھتے ہی جارہے ہیں۔آج صبح ہفتوں تک جاری رہنے والے تہوار کے تیسرے بڑے دن سادھوؤں اور عقیدت مندوں کا بہت بڑا ہجوم مرکزی شاہراہ ہری کی پاوری پر ’’شاہی اشنان یا شاہی غسل ‘‘ کے لیے امنڈ پڑا۔

 

ریاستی حکومت نے کہا کہ دوپہر 2 بجے تک 9,43,452 سے بھی زائد عقیدت مندوں نے کمبھ کے میلے میں شرکت کی۔پولیس آفیسر سنجے گنجیال نے رائٹرز کو بتایا کہ بغیر ہجوم والے گھاٹوں میں سماجی فاصلے کی پیروی نہ کرنے پر جرمانہ عائد کیا جارہا ہے، لیکن مرکزی گھاٹ کے لوگوں پرجرمانے عائد کرنابہت مشکل ہے۔ کیونکہ یہاں لاتعداد لوگ موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کمبھ میلہ کی مزید رسومات کو 27 اپریل ادا کیے جانے کی تاریخ طئے کی گئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ اس پروگرام پر ملک بھر سے تنقیدیں کی جارہی ہے اور لوگ خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔ ریاستی حکومت عقیدت مندوں کو ہری دوار چھوڑنے کے لئے راضی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اتراکھنڈ کے پولیس چیف اشوک کمار جو ہری دیوار میں انتظامات کی نگرانی کررہے تھے، نے بتایا کہ دوپہر تک قریب دس لاکھ افراد نے ندی میں ڈپکی مارہی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ منگل کو اتر کھنڈ میں کووڈ ۔19 کے سب سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے گئے، جس میں1,925 افراد کو کورونامثبت ہوا ہے۔گذشتہ دو دن میں ایک ہزار کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔