ازقلم :عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
مسلمانوں کا یہ مضبوط اور پختہ عقیدہ ہیکہ موت وحیات باری تعالی کے ہی قبضہ قدرت میں ہے نیز ہم سب اس بات پر بھی اپنے وجود سے زیادہ یقین رکھتے ہیں کہ مرض اور شفاء بھی خالق کائنات ہی کی مرضی سے حاصل ہوتے ہیں اس تمہید کے بعد عرض ہیکہ گذشتہ تقریبا دوبرس سے پوری دنیاے انسانیت ایک مہلک وباء اور قاتل بیماری سے شدید متاثر ہوی اور ہورہی ہے بلکہ اب تو خطرات اور زیادہ بڑھتے جارہے ہیں
کسی افسانوی مصنف نے لکھا کہ آج ہم جس دور میں زندگی گذاررہے ہیں اس میں کل کا کوئی پتہ نہیں خوف اور ڈر نے ہمارے ذہنوں کو جکڑ کر رکھ دیا ہے سماجی رابطوں اور باہمی تعلقات سے دور ہم سب انتہائی محتاط زندگی گذاررہے ہیں تاکہ اس وبای مرض کو پھیلنے سے روکا جاے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہیکہ اس کرہ ارضی پر بہت ساری ایسی وبائیں آئیں جس نے لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بناڈالا کبھی دریا بپھرے تو سینکڑوں بستیوں کو غرق کرکے ہی دم لئے کبھی سمندر کی لہروں نے بے رحمی کا منظر پیش کیا تو بے شمار افراد موت کے منھ میں چلے گئے
کبھی جیتے جاگتے شہروں اور آبادیوں کو گردوباد کے طوفانوں نے خاک میں ملاکر ھباء منثورا بنادیا کبھی زلزلے اور شدید بارشوں نے چٹیل میدانوں کی طرح دنیا کو مدفن بنادیا کبھی موسم کی سختیوں کے آگے انسان ڈھیر ہواکبھی مہلک امراض کے آگے انسان لاچار اور بے یار ومددگار پڑا رہا یہ سب کچھ ماضی میں ہوتا چلاآیا ہے اور آج دنیا کوکورونا وائریس کی وباء کا سامنا ہے جس نے ہنوز لاکھوں لوگوں کو موت کی نیند سلادیا بہرحال میں اس وقت یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ روے زمین پر اتنا سب کچھ ہوا اور اس سے بھی زیادہ ہونے والا ہے لیکن جو خوف اور ڈر آج انسانوں کے دلوں میں بیٹھا ہوا ہے ہمیں سب سے پہلے ماضی کے اوراق کا حوالہ دیتے ہوے دلوں سے اس ڈر کو نکالنے کی ضرورت ہے
جس کے لےء ہمارا عقیدہ سب کے سامنے ہے جو راقم نے اپنے مضمون کی سطر اول میں لکھا کہ موت وحیات کامالک اللہ ہے وہ جس کو جیسے اور جب چاہے موت دینے پر قادر ہے اسباب یا کسی وباء اور بیماری سے موت دینے کا وہ محتاج نہیں ہے نیز ہماری ریاست تلنگانہ کے معتبر ومسلمہ بزرگ عالم دین حضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمان مفتاحی صاحب مدظلہ العالی نے بھی بڑی پتہ اور تجربہ کی بات بتای کہ آج لوگوں کو یہ بات بتانا چاہیے کہ موت وزیست تو مالک کائنات کے قبضہ میں ہے
کسی انسان یا سازش کا س میں کوی دخل نہیں ہے ہاں البتہ ہمیں انسانیت کے دل سے ڈر اور خوف کو نکالنے کی فکر کرنا چاہیے یہ بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلادیا کہ لاعدوی کوی بھی بیماری ازخود متعدی اور ایک سے دوسرے کو نہیں لگتی ہے بلکہ منجانب اللہ ہی کسی کو بیماری آتی ہے اور شفاء بھی اسی کے پاس ہے ایک مرتبہ صحابہ کرام نے حضور علیہ السلام سے اونٹوں کو خارش لگنے کہ شکایت کی اور کہا کہ ایک سے دوسرے کو یہ بیماری لگ رہی ہے کیا کیا جاے تو آپ نے سوال کیا کہ اگر ایک سے دوسرے کو بیماری لگنے والی ہوتی تو پھر اس پہلے والے اونٹ کو بیماری کہاں سے لگی تو معلوم ہوا کہ ایک کو منجانب اللہ لگی تو سب کو بھی منجانب اللہ ہی لگے گی ہاں البتہ احتیاط برتنے کی تعلیم وتلقین آپ نے فرمائی کہ عقیدۃ تو مرض متعدی نہیں ہوتا مگر کسی شہر میں وباء عام ہوجاے تو اس شہر سے نہ نکلو اور دوسروں کو اس میں داخل ہونے نہ دیا جاے
جس سے احتیاط کرنے کاپہلو نکلتاہے راقم کا کہنا بس اتناہیکہ کورونا کی اس دوسری لہر میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ متاثر ہورہے ہیں وہیں 90 فی صد لوگ اس مرض سے شفاء پاکر صحتیاب بھی ہورہے ہیں جو حقیقت حال ہے اس لےء عوام الناس میں اس بات کو عام کیا جاے کہ عقیدہ پر ثابت قدم رہیں اور فرمان نبوی کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے گریز نہ کریں اور صحتیابی کی خبروں کو عام کرکے دلوں سے ڈر اور خوف کو نکالیں
