حیدرآباد: 7؍جولائی
(فہیم الدین)
حج سیزن کے دوران سوشل میڈیا پر صارفین نے قدیم زمانے میں حج کے مناظر کی عکاس تصاویر شیئر کی ہیں جس سے کل اور آج کے حج کے فرق کا پتا چلتا ہے۔ العرببیہ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ’یوم الترویہ‘ (8 ذی الحجہ) کے موقع پر منی میں حجاج کے خیموں اور ڈیروں کے مناظر پر مشتمل تصاویر وائرل ہو رہی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب منی میں کیا
سہولتیں حاصل ہیں۔

صارفین نے تصاویر پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ عشروں کے حج اور ا?ج کل کے حج کی سہولیات میں ِزمین ا?سمان کا فرق نظر آرہا ہے۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حاجیوں کے قافلے اونٹوں اور گھوڑوں یا پرانی بسوں پر سوار ہو کر منی پہنچ رہے ہیں۔ سادہ انداز کے خیمے نصب کیے پوئے ہیں۔ وہیں وہ کھانے تیار کر رہے ہیں۔

تاریخی حوالات جات میں بھی تحریر ہے کہ حج کا سفر پرانے زمانے میں بڑا مشکل اور خطرات سے بھرا ہوتا تھا۔ حاجی کئی کئی دن تک پیدل چل کر حج مقامات تک پہنچ پاتے تھے اس دوران جھلسا دینے والی دھوپ سے ان کا واسطہ پڑتا تھا۔ کبھی موسلا
دھار بارش، ا?ندھی اور طوفان وغیرہ اور تباہ کن سیلاب سے بپھی گزرنا پڑتا تھا۔

اس سال حج آنے والے جمعرات 8 ذی الحجہ کو منیٰ جائیں گے جسے حج کی زبان میں یوم الترویہ یعنی ایسا دن کہا جاتا ہے جس روز حجاج اپنے جانوروں کو پانی پلانے کا اہتمام کیا کرتے تھے اور مختلف طریقوں سے پانی اپنے ہمراہ منیٰ لے کر جاتے
تھے۔یہ ایک طرح سے اگلے روز یعنی 9 ذی الحجہ کو وقوف عرفہ کی تیاری کا دن بھی ہوتا ہے۔

حجاج 8 ذی الحجہ کو منی میں ظہر، عصر، مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کریں گے اور پھر 9 ذی الحجہ کو فجر کی نماز ادا کرکے
میدان عرفات کا رخ کریں گے۔





