اموات کی تعدار بڑھ کر چار‘ماباقی30کی حالت مستحکم‘ ڈائرکٹر صحت عامہ کابیان
حیدرآباد ۔31؍اگست
(نیوززین)
کمیونٹی ہیلت سینٹر (سی ایچ سی)، ابراہیم پٹنم میں 25 اگست کوکی گئی نس بندی آپریشنس سے پیدا شدہ پیچیدگیوں سے مزیددو خواتین دم توڑ گئیں۔ڈائرکٹر محکمہ صحت عامہ ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے آج یہ بات بتائی ۔کمیونٹی ہیلت سینٹر (سی ایچ سی)، ابراہیم پٹنم میں 25 اگست کو نس بندی کیمپ میں کل 34 خواتین نے ڈبل پنکچر لیپروسکوپی (DPL) کروائی تھی۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ باقی 30 خواتین کی طبی حالت مستحکم ہے۔رنگاریڈی میں ڈی پی ایل نس بندی کیمپ کے بعد دو خواتین کی موت ہوئی ۔اس واقعہ کے بعد سپرنٹنڈنٹ کمیونٹی ہیلت سینٹر ابراہیم پٹنم کو تاحیات معطل کر دیا گیا ہے جبکہ سرجری کرنے والے ڈاکٹروں کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت نے بھی انکوائری کا حکم دیا ہے جس کی قیادت وہ خود کررہے ہیں۔’’بقیہ 30 خواتین جنہوں نے نس بندی کیمپ میں ڈی پی ایل کروایا وہ مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتیاط کیلئے ہم نے چند خواتین کونمس ہاسپٹل منتقل کیا اور ان کی صحت کی نشوونما کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ نس بندی کیمپ ایک معمول کی مشق ہے جس میں تجربہ کار ڈاکٹروں کے ذریعہ ڈی پی ایل، ٹیوبیکٹومی اور نس بندی کی سرجری کی جاتی ہے۔
سرجری کرنے والے ڈاکٹر انتہائی تجربہ کار ہیں۔ ڈاکٹر سری نواس راؤ نے کہا کہیہ واقعہ یقینی طور پردردناک ہے اور ہم اس کی اصل وجوہات کا پتہ چلا رہے ہیں جن کی وجہ سے چار اموات ہوئیں ۔ انہوںنے یہ بھی واضح کیا کہ اس طرح کے کیمپ ہر ماہ تلنگانہ بھر میں معمول کے مطابق لگائے جاتے ہیں اور اس طرح کے کیمپوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد رضاکارانہ طور پر نس بندی آپریشنس سے مستفید ہوتی ہیں
قبل ازیںڈائرکٹر صحت عامہ نے کہا تھا کہ کل 34 کا آپریشن کیا گیا جن میں سے 30 خواتین کو ڈسچارج کر دیا گیا اور ان سب کی حالت مستحکم ہے۔ چار خواتین نے شدید قبض اور شکم میں درد کی شکایت کی تھی اور انہیں علاج کیلئے خانگی ہاسپٹلس میں داخل کرایا گیا تھا۔ دوران علاج دو خواتین پیچیدگیوں کا شکار ہو کر فوت ہوگئیں جبکہ باقی دو خواتین زیر علاج ہیں۔
جن کی آج موت واقع ہوئی ہے۔ڈی پی ایل ان خواتین کیلئے ایک ترجیحی سرجری ہے جو کم سے کم پیچیدگیوں کے ساتھ مستقل نس بندی کرنا چاہتی ہیں۔ نس بندی کی سرجری سے خواتین کو اسی دن چھٹی مل جاتی ہے اور وہ فوری طور پر اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر سکتی ہیں۔
اس واقعہ کے بعد ریاستی حکومت نے ڈائرکٹر صحت عامہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس پورے معاملہ کی انکوائری کریں اور کارروائی کیلئے ایک ہفتہ کے اندر تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کریں۔ متوفیوں کے ارکان خاندانوں کیلئے ریاستی حکومت نے فی کس 5 لاکھ روپیئے کی ایکس گریشیا ‘ڈبل بیڈروم مکانات اور زندہ بچ جانے والے بچوں کے رہائشی اسکول میں داخلہ کا وعدہ کیا ہے۔