اتحاد زندگی ہے انتشار موت

تازہ خبر مذہبی

از قلم
عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء
نظام آباد
9505057866

ولاتفرقوا فتفشلوا وتذھب ریحکم…..القرآن…..
اللہ تعالی نے اس دنیا میں ہر بندہ کو دوسروں کا محتاج بناکر پیدا کیا ہے یعنی ہم دنیاوی زندگی میں ایک دوسرےکے لےء معاون ومددگاربن کر ہی کامیاب زندگی گذارسکتے ہیں اس فطری احتیاج کے بنا ہم زندگی کا ایک قدم بھی اپنے آپ آگے نہیں بڑھاسکتے ہیں ایک بندہ اپنی جگہ مالدار ہے دولت کی کوی کمی نہیں لیکن اگر اس کو مکان بنانا ہے تو وہ کسی نہ کسی معمار اور گھربنانے والے کامحتاج ہے ایک بندہ اچھی سی اچھی گاڑی اپنے پاس رکھتا ہوں اوروہ کسی وقت خراب ہوجاے تو لازما اس کو کاریگر کی ضرورت پڑے گی جس کا وہ محتاج بن گیا اس حقیقت کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہیکہ کارخانہ قدرت میں ہر ایک کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے
جس طرح انسان کے اعضاء بدن میں غور کرنے سے بھی یہ حقیقت منکشف ہوجاتی ہیکہ اللہ پاک نے انسانی جسم کو الگ الگ اعضاء کی پیوندکاری سے جوڑا ہے سر کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے ناک کان اپنی جگہ کام کرتے ہیں دل دماغ اپنے مشن میں لگے ہوے ہیں ہاتھ پیر اپنی ذمہ داری اداکرتے ہیں یہ سب کے سب اعضاء بدن اپنی نوعیت وحقیقت کے اعتبار سے گرچہ جدا جدا ہیں لیکن ان کے آپسی اتحاد واتفاق سے ہی انسان کی زندگی چلتی ہے اگرسر میں درد ہوجاے تو پیر کے ذریعہ چل کر انسان ہاسپٹل جاتا ہے ہاتھ کی مدد سے دوا کھاتاہے منھ اس دوا کو قبول کرتا ہے آنکھ اس درد کا احساس کرکے روتی ہے دل دماغ بھی اس مرض کا مداواڈھونڈتے ہیں
اگر سردرد کرنے پر پیر چلنے سے انکار کردے یاہاتھ دوای کھانے میں مدد کرناچھوڑدے تو وہ انسان زندگی کے ایک قدم کو بھی آگے نہیں بڑھاسکتا ہے اعضاء بدن کے اسی اتحاد کو زندگی کہتے ہیں اور اگریہ منتشر ہوجائیں ایک دوسرے کا تعاون چھوڑدیں تو یقینا یہ موت کہلاے گی
بالکل اسی طرح اس دنیاوی زندگی میں ہرجماعت اور تنظیم یا سوسائٹی اپنے اپنے محور ومقصد اور دائرہ کار میں رہ کر کام کرتے رہیں لیکن باہمی اتحاد واتفاق کو نہ چھوڑیں تو آسانی کے ساتھ ہم اپنے کاموں کو انجام بھی دیں گے اورکسی کو اختلاف کا موقع بھی نہیں اگر ہم ایک دوسرے کے معاون بن جائیں اور ساتھ دینے کا مزاج بنالیں تو کیا مجال کہ کوی ہماری جانب نگاہ بد اٹھا کر دیکھیں اور ہماری طاقت وقوت کو للکاریں
بصورت دیگر
پھر ہم بے وقعت ہوکر رہ جائیں گے دنیا والوں کی نظروں میں ہمارا اور آپ کا کوی وقار باقی نہیں رہ پاے گا
ہم اپنے آپسی انتشار واختلافات کو دورکرکے ہی کچھ کام کرسکتے ہیں ورنہ ایک دوسروں کی برای بیان کرنے خامیاں نکالنے اور طعنہ زنی کرنے میں ہی ہماری زندگی کے قیمتی لمحات ضائع ہوجائیں گے جس کا شاید ہم کو احساس بھی نہ ہوپاے گا اور بعدمیں کف افسوس ملنے کے سواکوی چارہ نہیں رہے گا
آپسی اتحاد واتفاق ہی سے ہم اپنے اور اپنی قوم وملت کے مسائل کو حل کرسکتےہیں
اسلام اور مسلمانوں کودرپیش چیلنجیس کااگر مقابلہ کرنا ہو تو ہمارامتحد ہونا بہت ضروری ہے ورنہ تو ان بکھرے ہوے تاروں سے کیا بات بنے ؟
اگرہم یوں ہی آپسی مسلک ومشرب کے اختلافات یا تنظیموں اور گروپ بندیوں میں لگے رہیں گے تو یقینا ہماری ہوااکھڑ جاے گی اور ہم زمیں پر ایک بے وقعت وبےحیثیت قوم بن کر رہ جائیںنگے جیساکہ قرآن مجید نے اس جانب اشارہ کیا کہ آپس میں لڑونہیں ورنہ منتشر ہوجاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جاےگی اوراسی انتشار کو موت اور اتحاد کو زندگی کہا گیا ہے اللہ کرے کہ کم ازکم اب تو ہماری قوم کو عقل سلیم اور موجود حالات کے تناظر میں حکمت عملی سے کام کرتے ہوے متحد ہونے کی توفیق نصیب فرماے