حیدرآباد22؍جنوری
زین نیوز
تبسم ادبی معمے حصول زر کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ اس دور میں اُردو ز بان و ادب کی مقبولیت اسکی بقاء اور اشاعت کا ایک اہم وسیلہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جناب سید اسماعیل غوری ‘ تبسم ادبی معمے حیدرآباد نے تقسیم انعامات تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔
تبسم ادبی معمہ237میں پہلا انعام حاصل کرنے والے سید مخدوم محی الدین حیدرآباد‘ اور معمہ نمبر238میں پہلا انعام حاصل کرنے والے محمد عبدالغفور میدک کے اعزاز میں ایک تقریب تبسم ادبی معمہ کے برانچ دفتر واقع چیاپل روڈ گن فاونڈری حیدرآباد میں منعقد کی گی۔ جس کی صدرات جناب محمد تقی علی این آر آئی نے کی۔ اس تقریب میں جناب سید اسماعیل غوری صاحب کے ہاتھوں معمہ نوازوں کی موجودگی میں چیکس پیش کیے گئے۔اس موقع پر مہمان مقررین نے

مخاطب کرتے ہوئے اُردو کو فروغ دینے میں تبسم ادبی معمے حیدرآباد کی خدمات ناقابل فراموش ہیںتبسم ادبی معموں کی ایماندرانہ کارکردگی ‘ انعامات کی تیزی کیساتھ ادائیگی کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ تبسم ادبی معمے ایمانداری اور دیانتداری کی بنیاد پر قائم ہیں اور ایمانداری کا دوسرا نام ہیںتبسم ادبی معمے کا بلندی پر پہنچنا اس بات کی دلیل ہے کہ جناب سجاد رضوی صاحب کی ماہرانہ کمپلائنگ اور سید اسماعیل غوری ‘ انچارج ایڈیٹر محترمہ شاہدہ غوری صاحبہ کی انتھک محنت اور لگن کا نتیجہ ہے ۔اس تقریب کو جناب عبدالعلیم موظف ڈی ایف او‘ سید مخدوم محی الدین ‘ محمد عبدالغفورموظف ملازم ‘وزیر خا ن ‘ مدیر کاوش‘ نے مخاطب کیا۔جناب سید اسماعیل غوری نے تبسم ادبی معموں کی ایماندرانہ کاکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی اور تمام معمہ نوازو ں کا شکریہ ادا کیا

۔اس تقریب میں حیدرآباداور قرب و جوار کے معمہ نواز حضرات ‘ڈاکٹر محمد شفیع الدین ‘محمد کلیم الدین انعام رائے‘ محمد عبدالرشید‘محمد وقار علی‘ جعفر علی‘ عسکری حسین جاوید‘ سید اجمل کمال‘ محمد محب علی ‘ محمد فاروق حسین جرنلسٹ‘ محمد یادل قریشی‘ سید طاہر علی‘علی باشادی ‘ سید منصور علی جرنلسٹ‘ لیاقت اللہ خان‘محمد عبدالرزاق‘سید عبدالغفور(نوید) حیدرآباد ‘ آفس عملہ سید مقصود علی ‘ محترمہ نجمہ‘اوردیگر نے شرکت کی۔
