ممبئی 16؍جنوری
ویب ڈیسک
متنازعہ نیوز اینکر و چیف ایڈیٹر ریپبلک ٹی وی مسٹر ارنب گو سوامی کوپلوامہ حملے اور بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک کا پہلے سے علم ہونے کا واٹس ایپ لیک چیٹ سے حیران کن انکشاف ہوا ہے تفصیلات کے مطابق ارنب گو سوامی کے واٹس ایپ لیک چیٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں حیران کن انکشافات کیے گئے ہیں۔جو ملک میں گرما گرم بحث کا باعث بنی ہیں اور اسکو قومی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنے ’ کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ ارنب گوسوامی اور بی اے آر سی کے سابق سی ای او پرتھ داس گپتا کے درمیان پلوامہ حملے اور بالاکوٹ سے پہلے ہونے والی بات چیت کے سکرین شاٹس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کو پلوامہ حملہ اور بالاکوٹ ائیر سٹرائیک کا پہلے سے علم تھا ۔ ارنب گوسوامی نہ صرف بالاکوٹ پر حملے بلکہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بھی آگاہ تھے‘گوسوامی نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف معمول سے بڑی کارروائی ہو گی، گواسوامی کو معلوم تھا کہ کشمیر میں معمول سے ہٹ کر کچھ بڑا ہونےوالا ہے،ارنب گوسوامی بی اے آر سی کے سربراہ کے ساتھ مل کر اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے پر کام کرتے رہے۔واٹس ایپ پر کی جانے والی گفتگو کے اسکرین شاٹ تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں ارنب گوسوامی نے مبینہ طور پر واٹس ایپ پر یہ چیٹ انھوں نے براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل (بارک) کے سابق سی ای او پارتھو داس کے ساتھ کی ہے جو کہ ٹی آر پی ا سکیم کے معاملے میں ان دنوں حراست میںہیں۔۔اس چیٹ میں ایسی گفتگو بھی ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ (بارک) کے اعلی عہدیدار کو ریپبلک ٹی وی اور ریپبلک بھارت کے حق میں ریٹنگ دینے کی بات کہی گئی ہے۔سوشل میڈیا پر جو سکرین شاٹ وائرل ہو رہے ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ریٹنگ کو بڑھانے کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے ۔اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ریپبلک ٹی وی کے سربراہ ارنب گوسوامی اور مسٹر داس گپتا کے درمیان مستقل رابطہ رہا ہے جبکہ بارک کے چیف آپریٹنگ آفیسر رومیلا رام گڑھیا اور ریپبلک ٹی وی کے سی ای او وکاس کنچندانی کے درمیان بھی اس کے متعلق بات چیت ہوتی رہی ہے ۔کانگریس کی کونسلر یاسمین قدوئی نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ‘حکومت فوجی حملہ کرنے سے قبل ارنب گوسوامی سے تبادلہ خیال کر رہی تھی۔ یہ خوفناک حد سے بھی بڑھ کر ہے ۔’آئی ایم او نیر نامی صارف نے لکھا ہے کہ ‘یہ شرم کی بات ہے اور سکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ حیرت ہے کہ بھکت کس طرح اس سے بے خبر ہیں۔ ارنب کی قلعی کھل گئی ہے اور ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔فلم ساز کمال آر خان نے لکھا ہے کہ ‘ارنب کے واٹس ایپ چیٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ تمام دہشت گردانہ حملے انتخابات جیتنے کے لیے فکس کیے جاتے ہیں

