قربانی کے لےکیساجانورخریدیں
قسط دوم
ازقلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
صاحب استطاعت آدمی پرقربانی کرنا واجب ہے
دنیا میں پرانی قوموں کا یہ دستور تھا کہ وہ جانوروں کو ذبح کرکے اس کو تقرب کا ذریعہ سمجھتے تھے اسلام نے اس عمل کو صحیح رخ دے کر قیامت تک اس دستور کو جاری رکھا چنانچہ حضرت ابراہیم واسماعیل کے واقعہ میں اللہ پاک جنت سے ایک مینڈھا بھیجا اور اس کی قربانی حضرت ابراہیم سے کروای اسی وقت سے اسلام میں یہ عمل مشروع قرارپایا بلکہ ایام قربانی میں اس سے زیادہ بہتر محمود ومطلوب عمل اللہ کو کوی اور نہیں ہے اسی لےء ہر استطاعت والے بندہ پرقربانی کو لازم کردیا ارشاد نبوی ہے
من وجد سعۃ لأن یضحی فلم یضح فلایقربن مصلانا
جو بندہ قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اس کے باوجود وہ قربانی نہ کرے تو سخت وعید اس کے لےء بیان کی گئ کہ وہ ہمارے یعنی مسلمانوں کی عیدگاہ کو بھی نہ آے جس سے قربانی والے عمل می اہمیت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے اسی اہمیت کے پیش نظر فرمایاگیا کہ قربانی کے ایام میں اہراق دم یعنی جانور قربان کرنے سے زیادہ افضل عمل کچھ نہیں ہے ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ اس عظیم الشان عمل کی اہمیت کو سمجھیں اور قربانی کرکے اپنے پروردگار کو راضی اور خوش کرنے کی پوری پوری فکر کریں عموما لوگ مالی خسارہ یا قرض کو بہانہ بناکر یا حالات کی دہای دے کراس عمل سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں جو انتہای بدبختی کی علامت ہے
قربانی کاوجوب آنے کے بعد سب سے پہلا کام ہے شریعت کے بتاے ہوے اصولوں اور قواعد کے مطابق جانور کی خریداری کرنا اور اس کی اچھی دیکھ بھال کرکے اس سے انسیت قائم کریں اور پھر اس کواپنے ہی ہاتھ سے قربان کریں
آج کل یہ رواج بھی دیکھا جارہا ہیکہ بعض لوگ اپنی شان بڑھانے اور سماج میں اپنا نام کروانے کی غرض سے شہر میں سب سے بڑا عمدہ خوبصورت اور قیمتی جانور خریدتے اور اس کی شہرت کرواتے ہیں
دوسری طرف بعض لوگ وہ ہیں جو اپنی استطاعت سے بھی کم قیمت والاجانور یاکسی بڑے جانور میں حصہ داری کرکے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں تو ہردونوں کو یہ بات سمجھ لینا اور جان لینا چاہیے کہ قربانی والا عمل ریا کاری کے لےء کیا جاے تو بھی اللہ کے نزدیک غیرمقبول ہوگا اور محض ایک معمولی ذمہ شافی سمجھ کر جان چھڑانے اور فریضہ سے ادائیگی تصور کرکے اپنی حیثیت سے کم قیمت والا جانور ذبح کرادیں تو یہ عمل بھی عنداللہ غیرمعتبر ہی شمار ہوگا بلکہ ہرکسی کو چاہیے کہ وہ اس عمل کو عبادت اور تقرب الہی کا ذریعہ سمجھ کر پورے آداب واہتمام کے ساتھ اداکریں عمدہ سے عمدہ جانور صحیح نیت سے خریدیں گوشت خوری ہمارا مقصد نہ ہوں حدیث پاک میں ہیکہ
سمنواضحایاکم فانھاعلی الصراط مطایاکم
اپنی قربانی کے جانوروں کوکھلاپلاکر اچَی دیکھ بھال کرکے فربہ کروچونکہ کل پلصراط پر یہی تمہاری سورای بنین گے جس پر سے تم کو گذرنا ہے
اسی طرح ہمیں یہ خیال بھی ہونا چاہیے کہ ہم ایک عبادت کی انجام دہی کررہے ہیں اور اس جانور کو اللہ کے لےء قربان کررہے ہیں تو وہ جانوربھی بے عیب ہوں کسی بھی اعتبار سے وہ لنگڑا لولا بہرہ اندھا کانا یا سینگ ٹوٹا ہوا یا زخمی نہ ہوں اسی طرح شریعت کے بتاءے ہوے اصول وضابطوں سے ہٹ کر بھی نہ ہوں کہ ابھی دوسال کا بھی نہیں ہوا اورہم قربانی کردیں ایسا نہ ہوں
بلکہ اونٹ کی عمر پانچ سال بتای گیء اور گاے بیل بھینس وغیرہ کی عمر دوسال بتای گیء نیز اگر بکرا بکری مینڈھا وغیرہ ہوں تو ان کا ایک سال کا ہونا ضروری ہے اس سے کم عمر والے جانور کے ذریعہ سے قربانی والا عمل کریں گے تو وہ عنداللہ مقبول ومعتبر نہیں ہوگا اس لےء ان چیزوں کا بہت خیال کرنا چاہیے
جسمانی اعتبار سے نحیف ولاغر جانوروں کی قربانی سے بھی احتراز کرنا چاہیے چونکہ ہماری یہ قربانی اللہ تعالی کے سامنے پیش ہونے والی ہے تو اس کا بھی خیال رہے
جاری
