امرتسر میں شیوسینا لیڈر کا گولی مار کر قتل

تازہ خبر جرائم حادثات قومی
 دھرنے کے دوران ہجوم میں قاتل گولیاں چلاکر فرار
امرتسر :۔4؍اکتوبر
(زیڈ این ایم ایس)
ہندو رہنما سدھیر سوری کو جمعہ کو پنجاب کے امرتسر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ امرتسر پولیس کے مطابق گولی چلانے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
ملزم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ قتل کیوں کیا گیا۔ کشیدگی کے پیش نظر علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
سوری شیوسینا ہندوستان کے لیڈر تھے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ مورتیوں کی بے حرمتی کے خلاف گوپال مندر کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔
 ان کے ساتھ ان کے حامی بھی موجود تھے۔ پھر اچانک ان پر گولی چلا دی گئی۔ اسے زخمی حالت میں ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جہاں ان کی موت ہو گئی۔
 اس دوران دوپہر کے وقت نامعلوم نوجوان آئے اور ان پر فائرنگ کر دی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گولیاں چھت سے چلائی گئیں یا براہ راست فائر کی گئیں۔
 گولیاں برسانے والے کس سمت بھاگے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ جوابی کارروائی میں ان کے سیکوریٹی عہدیداروں نے بھی ہوائی فائرنگ کی۔ گولیاں سدھیر سوری کے سینے میں لگیں۔ جس کے بعد انہیں فوری طور پرخانگی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔
سدھیر سوری خالصتان کے حامیوں کے نشانے پر تھے۔ کچھ عرصہ قبل ان کے قتل کی سازش کا بھی پردہ فاش ہوا تھا، جسے بیرون ملک بیٹھے خالصتان کے حامیوں نے بنایا تھا۔ اس کے بعد انہیں پولیس تحفظ فراہم کیا گیا۔
خبر رساں اداروں اور ٹی وی چینلز کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں امرتسر میں گوپال مندر کے قریب کچرے سے بھگوان کی مورتی برآمد ہوئی تھی جس کے خلاف شیو سینا کے رہنما سدھیر سونی اور دیگر ہندو تنظیموں کے رہنماؤں نے دھرنا دیاتھا۔ ابھی تک کسی تنظیم نے سدھیر سوری کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ گوپال مندر کے باہر ہندو تنظیموں کے رہنماؤں کے دھرنے کے مظاہرے کی وجہ سے مقامی باشندوں کی بڑی بھیڑ احتجاجی مقام پر جمع ہو گئی تھی۔
 اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی نے بھیڑ کے درمیان سے مندر کے باہر دیگر ہندو تنظیموں کے لیڈروں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے شیوسینا لیڈر سدھیر سوری پر گولی چلانا شروع کر دی، جس کی وجہ سے ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
بتایا جا رہا ہے کہ چند روز قبل امرتسر میں ہندوتوا اور دیگر مذاہب کی اقلیتی برادری کے رہنماؤں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ ان لیڈروں کو ایسی دھمکیاں کینیڈا اور دیگر ممالک میں بیٹھی دہشت گرد تنظیمیں دے رہی تھیں