مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی کرنے والا ملک قرار دینے کا مطالبہ
واشنگٹن 4 2/جون
(ایجنسیز )
امریکی قانون ساز الهان عمر نے کانگریس میں ایک قرارداد پیش کی ہے ، جس میں محکمہ خارجہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی کرنے والا ملک قرار دے۔الہان عمر ڈیموکریٹک کی رکن ہیں اس قرار داد کو آل ڈیموکریٹ نمائندے راشدہ طلبیب ، جم میک گورن اور جو آن درگاس کی بھی حمایت حاصل ہے۔
الهان عمر اور راشدہ طلیب کانگریس میں پہلی مسلم امریکی خواتین ہیں اور وہ دونوں دیگر مسائل کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور ان کو در پیش چیلنجز پر دنیا کی توجہ مرکوز کراتی رہتی ہیں۔ پیش کی گئی ہندوستان مخاف قرارداد میں سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ہندوستان کو بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت امریکہ کی طرف سے پیش کی جانے والی درجہ بندی میں خصوصی تشویش کا ملک کے طور پر نامزدکر یں۔
الہان عمر نے کہا کہ مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے بھارتی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جاناچاہیے۔حالیہ برسوں میں ہندوستانی مسلمانوں، عیسائیوں سکھوں اور دلتوں کے خلاف جابرانہ پالیسیاں بڑھارہی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ہندوستان کے موقف کی حقیقت کو تسلیم کرے اور اس ملک کو باضابطہ طور پر خصوصی تشویش والے ملک کے طور پر نامزد کرے۔
الهان عمر کی قرار داد امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی ایک حالیہ ر پورٹ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جو کہ کانگریس کی طرف سے قائم کی گئی ایک سرکاری ایجنسی ہے، قرارداد میں بار بار پورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔رپورٹ میں محکمہ خارجہ سے ہندوستان کو خصوصی تشویش کا ملک قرار دینے کی بھی سفارش کی گئی۔لیکن سفارش قبول نہیں کی گئی۔
دراصل امریکی محکمہ خارجہ نے بین الاقوامی مذہبی آزادی پر پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اپنی سالانہ رپورٹ میں ہندوستان کے متعلق کہا تھا کہ 21 0 2 میں ہندوستان میں اقلیتی برادریوں اور مذہبی مقامات پر سال بھر حملے کیے گئے ، جن میں قتل اور دھمکیاں بھی شامل ہیں ۔
ماضی میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کرنے کے ہندوستانی حکومت کے فیصلوں پر بھی الہان عمراپنی آواز بلند کر چکی ہیں اور اپر میں میں انھوں نے پاکستان کا بھی دورہ کیا تھا اور اس دوران عمر نے پاکستان مقبوضہ کشمیر کا بھی دورہ کیا اور وہاں قیام کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مودی انتظامیہ کی مسلم مخالف بیان بازی کے بارے میں بات کی ۔
بھارت نے اس دورے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان نے کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ امریکی نمائندے الہان عمر نے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ایک حصے کا دورہ کیا ہے، جو اس وقت غیر قانونی طور پر پاکستان کے قبضے میں ہے، اگر اس طرح کی سیاست دان اپنے گھر میں اپنی تنگ نظر سیاست چلاتی ہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے لیکن اس کام کے لیے اگر وہ ہماری علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو یہ ہمارا مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہ قابل مذمت ہے