وزارت خارجہ نے روک دیا ۔ حکومت کا فیصلہ فسوسناک ۔ایم پی
نئی دہلی:۔4؍اکتوبر
(زیڈ این ایم ایس)
راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا کی سیمینار میں شرکت کی خواہش اس وقت پوری نہ ہوسکی جب حکومت ہند نے انہیں پاکستان جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق لالو پرساد یادو کے قریبی ماننے جانے والے منوج جھا پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا دورہ کرنے والے تھےمنوج جھا نے حکومت ہند سے درخواست کی تھی کہ انہیں پاکستان جانے کی اجازت دی جائے۔جس سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی
منوج جھا نے حکومت کو بتایا تھا کہ انہیں انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقدہ پروگرام میں مدعو کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام 23 اکتوبر کو لاہور شہر میں ہے۔ اس پروگرام میں وہ ‘جمہوری حقوق کے دفاع میں سیاسی جماعتوں کا کردار’ پر لیکچر دینے والے ہیں۔ منوج جھا کو حکومت ہند سے حتمی جواب مل گیا ہے۔ حکومت ہند نے انہیں 23 اکتوبر کو لاہور میں عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقد ہونے والے پروگرام میں شرکت کے لیے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔
RJD Rajya Sabha MP @manojkjhadu claimed that he had been denied “political clearance” to travel to Pakistan by the @MEAIndia to participate in the fourth Asma Jahangir Conference, reports @Anand_Journ https://t.co/nCbzrtEHBl
— The New Indian (@TheNewIndian_in) October 4, 2022
ارکان پارلیمنٹ کو وزارت داخلہ سے غیر ملکی مہمان نوازی کو قبول کرنے کے لیے MEA سے سیاسی منظوری اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ 2010 کے تحت کلیئرنس لینے کی ضرورت ہے۔ MEA نے ایک سطری جواب بھیجا: "وزارت خارجہ نے اس تجویز کی جانچ کی ہے۔ سیاسی زاویے سے کلیئرنس مسترد کر دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ سے فارن گرانٹس (ریگولیشن) ایکٹ کے حوالے سے منظوری لی گئی تھی، لیکن وزارت خارجہ نے اسے روک دیا۔ منوج جھا کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کو ان کے پاکستان جانے پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن مسئلہ وزارت خارجہ میں پھنس گیا اور انہیں سیاسی منظوری نہ مل سکی۔
فاؤنڈیشن کی طرف سے مسٹر جھا کو دیے گئے دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ سیمینار جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے، اظہار رائے کی آزادی اور اختلاف رائے کے حق پر بات کرنا چاہتا ہے۔ اس میں آئین کے تحفظ، جمہوریت کو مضبوط بنانے اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق اور تنوع کے لیے سکڑتی ہوئی رواداری کے تناظر میں مذہب اور عقیدے کی آزادی میں عدلیہ کے کردار پر بھی غور کیا جائے گا۔
منوج جھا کا کہنا تھا کہ 20 اکتوبر کو انہیں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان جانا تھا، جب کہ 24 اکتوبر کو وہ وہاں سے واپس آ چکے ہوں گے۔ اب بھارتی حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باعث ان کی پاکستان جانے کی خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ویسے منوج جھا کو امید ہے کہ وزارت خارجہ ان کے لیے پاکستان جانے کا کوئی راستہ نکال لے گی۔