ایمان و احتساب کے ساتھ عبادت کرنے والی رات

تازہ خبر مذہبی

اجتماعی توبہ کا ایک موقع ہے مسلمان اس کو ضائع نہ کریں
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
شب قدرایک اہمیت والی افضل ترین رات ہے جس کی فضیلت وبرتری امت مسلمہ سے پنہاں وپوشیدہ نہیں ہے ہر عاقل بالغ مسلمان مرد وعورت خوب اچھی طرح جانتےاور مانتے ہیں اس رات کو زمانہ قدیم سے بڑی رات کے نام سے بھی یادکیاجاتا رہا ہے

اللہ تبارک وتعالی نے تمام مہینوں میں رمضان المبارک کو فوقیت عطاء فرمای تمام کتابوں میں قرآن مجید کو عظمتوں سے نوازا تمام انبیاء میں حضور علیہ السلام کو افضلیت دی بالکل اسی طرح تمام راتوں میں اس رات یعنی شب قدر کو برتری سے نوازا
امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اس رات کی قدرومنزلت کو سمجھیں اور ایمان وثواب کی امید کے ساتھ عبادتوں میں صرف کرے اپنے پروردگار کو راضی وخوش کرنے کے لےء مکمل رات کو قیام وسجود اور دعاؤں وتلاوت قرآن میں گذارے

قرآن مجید نے ا س رات کو ہزار مہینوں سے افضل وبہتر بتلایا ہے اور حکم رب سے فرشتے زمین کے مختلف حصوں میں پھیل جاتے ہیں باری تعالی کہ جانب سلامتی عام ہوجاتی ہے اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری وساری رہتا ہے جس سے اس رات کی اہمیت اور تقاضوں کاپتہ چلتاہے
علاوہ ازیں

سید الاولیین والاخرین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کا مقام ومرتبہ بتاتے ہوے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرہ بالخصوص طاق راتوں میں اس کو تلاش کرو
تلاش کرنا کسی قیمتی چیز ہی کے متعلق کہا گیا ہے ورنہ تو اللہ کے نبی عام چیزوں کو اس طرح اہمیت کے ساتھ تلاش کرنے کا

حکم دینا کاکوی معنی نہیں ہے جب نبی نے اس کو تلاش کرنے کا حکم دے دیا تو سمجھیں کہ اس رات میں کتنا خیر پوشیدہ ہوگا ام المؤمنین حضرت عائشہ رضہ نے استفسار کیا کہ اگر اس رات کا پتہ چل جاے تو میں اللہ سے کیا دعامانگوں تو آپ نے جامع اوربہترین دعاء ارشاد فرمای
اللھم انک عفوتحب العفو فاعف عنی

اے اللہ بے شک آپ بہت معاف کرنے والے ہیں معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں آپ مجھے بھی معاف فرمادیجیے
بہرکیف
اس قدر والی رات کو قدر دانوں ہی کے لےء رکھا گیا ہے اگر ہم ناقدری کریں اور عام راتوں کی طرح اس رات کو بھی لہو ولعب میں گذاردیں تو یہ ہماری حرماں نصیبی ہوگی

اب سوال اینکہ یہ رات کب آتی ہے تو جواب اینکہ کوی خاص دن یا تاریخ اللہ کے نبی نے واضح نہیں فرمای محض اس وجہ سے کہ لوگ ہر رات کو اسی رات کی تلاش وجستجو میں گذارے اور پوری راتیں ان کی عبادت والی اور کارآمد بن جاے
لیکن پھر بھی جن علامات کا ذکر آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ اکثر وبیشتر ستائسویں شب کو دیکھی اور محسوس کی گیء اس لےء علماء کرام نے اغلب احوال کے مطابق فرمایا کہ یہ رات آخری عشرہ کی چوتھی طاق رات کو ہوسکتی ہے اور امت مسلمہ کا ایک طویل زمانہ سے اسی رات کو اہتمام کرنا منقول ہے

ایک اور روایت میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی بندہ مومن اس رات کو ایمان واحتساب کے ساتھ عبادت کرے گا باری تعالی اس کے سابقہ ولاحقہ گناہوں کو معاف فرمادیں گے اس سے بڑھ کر اور کیا بشارت وخوشخبری چاہیے کہ تمام ہی سیئات اور خطاؤں کی معافی کا پروانہ اس رات میں عبادت کرنے والوں کو دیا جارہا ہے اس لےء ہمیں بہت ہی اہتمام سے اس رات کی میں عبادت وریاضت کرکے اللہ پاک کو منوانے اور بطور خاص پوری انسانیت جس وبای مرض کی شکارہورہی ہے اور لوگ بارش کے قطرات اور ٹوٹی تسبیح کے دانوں کی طرح لگاتار دنیا سے رخصت ہوتے جارہے ہیں

 

 یہ بھی پڑھیں :  ثانیـــــــہ مرزا کی ہندوستــــــــان کے لئے مدد کی اپیــــــــــــلی

 

اس وبای مرض سے نجات کے لےء دعاء مانگنا چاہیے اللہ پاک ہم سب کو اس سے محفوظ فرماے اور ہم پورے خلوص کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اللہ کی جانب سے ملنے والے اس سنہر ی موقع کو بازاروں کی زینت بن کر یا اپنی دنیا داری اور کاروباری میں لگ کر اس کو ضائع کرنے کی ہرگز غلطی نہ کریں جس بندہ مومن کو جیسی بھی توفیق مل جاے وہ عبادت کریں اور پورے اخلاص وانہماک کے ساتھ اللہ سے اجر وثواب اور اس مرض سے نجات کی نیت کرکے راتوں کو کھڑے ہوجائیں اور خوب آہ وزاری کرکے اللہ کو منوائیں پوری دنیا میں کوی تو ایک بندہ ہوگا

جس کی آہ عرش الہی کو ہلاکر رحمت الہی کو جوش میں لاے گی ہم میں سے ہربندہ یہی سمجھے کہ شاید یہ وباء میری بدعملی اور نافرمانیوں کی شامت ہے تو باری تعالی کی ذات سے یقین کامل ہیکہ وہ ضرور اپنح بے بس ومجبور بندوں کی آہوں کو سن لے گا اور کائنات کی تقدیر کو پلٹ دے گا اللہ پاک مجھ گناہ گار کی بدعملیوں کی سزا دنیا جہاں والوں کو نہ دیجیے اورپورے عالم کو اس وبای بیماری سے چھٹکارا مقدر فرماے
آمین بجاہ سید المرسلین