خواتین کارکنوں کی پولیس سے جھڑپ۔ دفعہ 144 نافذ
نئی دہلی:15؍جون
(زیڈ ایم این ایس)
راہل گاندھی نیشنل ہیرالڈ معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے بدھ کو مسلسل تیسرے دن انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے دفتر پہنچے ہیں۔ ان سے پوچھ گچھ کے خلاف پارٹی رہنما اور کارکنان آج بھی سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ دہلی میں کانگریس کے سیکڑوں کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور کئی سینئر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا ۔
کئی خواتین کارکنوں کی پولیس سے جھڑپ ہوئی، پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ ساتھ ہی کارکنوں نے ای ڈی آفس کے باہر ٹائر جلا کر احتجاج کرتے ہوئے ا پنے غصہ کا اظہارکیا۔
پرینکا گاندھی واڈرا کے شوہر رابرٹ واڈرا نے کہا کہ انتظامیہ کے کہنے پر کانگریس لیڈروں کو پولیس نے مارا پیٹا جو کہ بالکل غلط ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ کارکنوں کو پرامن مظاہرے کرنے سے روکا جا رہا ہے، یہ جمہوریت کا قتل ہے۔
حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے بھوپیش بگھیل نے کہاکہ ‘میں ان سے پوچھ کر اپنے گھر جاؤں گا؟ میں ان سے پوچھنے اپنے دفتر جاؤں گا؟ میں نکسلائیٹ ریاست سے آیا ہوں، میرے پاس Z+ سیکوریٹی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ صرف ایک سیکوریٹی گارڈ مجھے لے جائے گا۔ مجھے ایک گھنٹے کے لیے سڑک کے بیچوں بیچ روک دیا گیا ہے۔ آخر سازش کیا ہے؟
اسی وقت، ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ پولیس کا احتجاجی کارکنوں کو روکنے کے لیے کانگریس کے دفتر میں آنا غیر قانونی ہے۔ یہ کارروائی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے حکم پر کی گئی
منگل کو پوچھ گچھ کا دوسرا دن تھا۔ راہل گاندھی سے ای ڈی افسر نے پہلے دور میں 4 گھنٹے سے زیادہ پوچھ گچھ کی۔ اسی دوران کھانے کے وقفے کے بعد تقریباً 6 گھنٹے تک سوالات کا سلسلہ جاری رہا۔ طویل پوچھ گچھ کے بارے میں ایجنسی کا کہنا ہے کہ راہل کا بیان ریکارڈ کرنے میں مزید وقت لگ رہا ہے۔
راہل گاندھی گاڑی سے تفتیشی ایجنسی کے دفتر پہنچے تھے۔ ان کے ساتھ بہن پرینکا گاندھی بھی تھیں۔ راہل کو چھوڑ کر پرینکا وہاں سے چلی گئیں۔ دو دنوںسے کانگریس کے دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وہاں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
