ہم سب کے لئے عظیم خسارہ
العارض: شیخ سرور عفی عنہ
خادم جامعہ عربیہ تحفیظ القرآن
یہ ہم سب کے لئے انتہائی پرملال خبر ہے کہ حضرت حافظ عبدالماجد صاحب۔(نابینا مولوی صاحب)۔جنہیں اب مرحوم لکھنا پڑرہا ہے۔۔اس دنیا میں نہیں رہے۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔حافظ صاحب خلیق،ملنسار،قناعت پسند،دین کی خدمت کا سچا جذبہ رکھنے والے انسان تھے۔۔
وہ خداے بزرگ و برتر کے باتوفیق بندے تھے،چنانچہ ان کو 40 سے زائد عرصہ تک قرآن کریم کی خدمت کا موقع نصیب ہوا۔۔۔ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔۔وہ باہمت، حالات کے مطابق فیصلہ کرنے والے،دور رس، تھے۔۔ابتداۓ عمر مین کسی عارضہ سے بینائ چلی گئ تھی؛ لیکن یہ ان کی ہمت اور توفیق ہی کی بات ہے کہ انہوں نے اسی حالت میں قرآن مجید کا حفظ کیا۔۔۔
پھر حیدرآباد کی مشہور دینی درس گاہ فیض العلوم میں،جہاں پر حفظ قرآن کیا تھا،پانچ سال تک قرآن کریم پڑھاتے رہے۔۔۔پھر جگتیال میں جامعہ عربیہ تحفیظ القرآن میں تقریباً 28 سال تک خدمت انجام دیتے رہے۔۔۔
بلاشبہ جگتیال میں ان کی خدمت کا دور تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھے جانے کے لائق ہے۔۔۔یہیں سے ان کا فیض ضلع کریم بلکہ اس کے اطراف و اکناف میں پھیلا۔۔۔اور آج الحمد للہ ان کے ہاں قرآن مجید کا حفظ کرنے والے ضلع بھر کی مساجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے ھیں،رمضان المبارک میں تراویح سناتے ہیں۔۔۔
ان کے شاگردوں میں مدارس کے نظماء،یگانہ علماء،جید حفاظ،کآمیاب مدرسین،نیک و صالح اور دین دار تلامذہ ہیں،جو ان کے لئے ان شاء اللہ ذخیرہ آخرت ہوں گے۔۔۔ان کا فیض قرآن مجید مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی خوب پھیلا۔۔۔
بفضلہ تعالیٰ سینکڑوں کی تعداد میں خواتین ہیں جنہوں نے تجوید کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کی ان سے سعادت حاصل کی۔۔۔جامعہ عربیہ تحفیظ القرآن جگتیال کے بعد ان کے اپنے وطن کورٹلہ میں ان کا لگایا ہوا گلشن علمی اور ان کے نامی گرامی فرزند مفتی عبدالمعبود قاسمی رحمہ اللہ کی کوششوں سے قایم ہوا مدرسہ۔۔مدرسہ اسلامیہ مظاہر علوم بھی ہے۔۔۔اس ادارے کی ترقی کے لئے انہوں نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود رات دن محنت کی۔۔

اور الحمد للہ ایک کامیاب اور بافیض مدرسہ کی حیثیت سے معاشرے میں اس کا تعارف ہوا۔۔۔اس ادارے میں بچیوں کے لئے عالمیت ک دورہ حدیث تک تعلیم ہے۔۔۔ساتھ ہی ساتھ لڑکوں کے لئے حفظ قرآن مجید اور بڑی عمر کی خواتین کے لئے تصحیح قرآن مجید کا شعبہ بھی ہے۔۔۔۔
حافظ صاحب کی رحلت ہم سب کے لئے بہت بڑا خسارہ ہےوہ ایک بافیض آدمی تھے۔۔۔ان کی ذات میں بیدار و تجربہ کار و فعال منتظم ہونے کے ساتھ ساتھ کامیاب مدرس،کا عکس صاف محسوس ہوتا ہے۔۔۔ان کے بچے حافظ عبدالمعید و حافظ عبدالودود بھی بحمد اللہ سمجھدار ہیں۔۔۔
اس موقع پر ان کے پسماندگان میں بھائیوں، بہنوں اور بیٹوں اور ان کی خدمت گذار و وفا شعار اہلیہ کی میں اپنی طرف سے اور ادارے کے تمام ہی اساتذہ و طلبہ کی طرف سے تعزیت مسنونہ کرتا ہوں۔۔۔خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔۔۔حافظ صاحب کی خدمات کا شایان شان بدلہ عطا فرمائے۔۔۔