بدنگاہی سے جسم فروشی تک

تازہ خبر مذہبی

قسط اول
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں اللہ ورسول کے احکامات کی خلاف ورزی کی جاے گی وہاں فساد وبگاڑ لازما وجود میں آے گا اس لےء مسلمانوں کو پابند کیا گیا کہ قرآن وحدیث اور تعلیمات اسلامی کے مطابق زندگی گذار کر امن وامان کو بحال کیا جاے جس میں مردوں اور عورتوں ہر دو کے لےء ہدایات اور ذمہ داریاں اور پابندیان بتائی گئ ہے
مذہب اسلام نے جس طرح مردوں کے لےء احکامات وہدایات جاری فرماے ہیں اسی طرح عورتوں کے لےء بھی زندگی گذارنے کے اصول اورضابطے مقررکےء ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر ہی انسان کامیاب وکامران ہوسکتا ہے بطورخاص خواتین اسلام کےلےء نگاہوں کی حفاظت پردے کے احکامات تو ان کی عفت وعصمت کے تحفظ کے ضامن ہیں ان پر عمل کرنا ہر مسلمان خاتون کےلےء لازمی ہے
اسی لےء کہ عورتوں کے حوالہ سے جو تعلیمات مذہب اسلام نے مرتب فرماے ہیں ان کاپاس ولحاظ رکھنا ضروری ہے بصورت دیگر عورتوں کا تحفظ ممکن نہیں ہوگا
اس تمہید کے بعد عرض ہیکہ گذشتہ دودن قبل شہر کے ایک اردواخبار کی سرخیوں میں یہ خبر شائع ہوی کہ موجودہ معاشی بحران کے سبب جسم فروشی کاکاروبار عروج پر ہے اور مسلم خواتین اپنی تسکین دل اور مالی منفعت حاصل کرنے کی غرض سے اس ناجائزاورحرام کام میں ملوث ہوتی جارہی ہیں اسی اثناء میں ایک دوست نے شہر کے ایک علاقہ کا ویڈیو بھی بتایا جس میں مسلم خواتین اس گناہ میں شریک تھیں جن سے پوچھ تاچھ کی جارہی تھی راقم سطور کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس سلسلہ میں بھی قلم کو جنبش دی جاے
چنانچہ غور کرنے کے بعد یہ بات سامنے آی کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام اور خواتین اسلام کی راہ نمای بھی ملت کے غیور اور دردمند علماء وذمہ داران کاکام ہے اس لےء اولا عورتوں کو ان کامقام بتایا جاے اور پھر نگاہوں کی حفاظت اور پردے کے احکامات وقواعد سے باخبر کیا جاے
بے پردگی کے نقصانات سے واقف کرایا جاے اور پھر اس عظیم گناہ کی قباحت وشناعت پرروشنی ڈالی جاے تو ممکن ہے کہ بات سمجھ میں آے اور گناہ سے بچنے کا داعیہ ان میں پیدا ہو
چنانچہ
ا سی نیت سے درج ذیل تحریر پیش کی جارہی ہے اللہ پاک توفیق فہم وعمل نصیب فرماے
آمین
اسلام نے عورت کو جومقام ومرتبہ دیا ہے شاید ہی کسی اور مذہب میں اس کا تصور کیا جاسکتا ہوں
اسلام نے عورتوں کوعزت کا تاج پہنایا ان کو جاہلیت کے ظالمانہ مزاج سے نکال کر ان کے حقوق بتلاءے
جس معاشرہ میں عورتوں کو باعث ذلت سمجھاجاتاتھا وہاں کو نہ صرف حقوق دلواے بلکہ جائیداد میں ان کو وارث بنایا
عورت جس روپ میں بَی ہوں وہ لائق تعظیم ہے ماں ہوں تو اس کے قدموں تلے جنت بتلای بیٹی ہوں تو اس کی تعلیم وتربیت پرجنت کا وعدہ فرمایاگیا بیوی ہوں تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ترغیب وتاکید فرمای اور اس کو سکون دل بتایا یہی نہیں بلکہ ان کو تحت الثری سے اٹھاکر ثریا تک پہونچادیا عورت کوانسانی زندگی کاجزولاینفک بتایا
شاعر کی زبان میں
وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی میں سوزدروں

عورتوں کےلےء عبادات کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم وتربیت کے اصول وضابطے بتاے گےء معاشرتی زندگی کے طور طریقے وضع کےء گھر میں رہن سہن کے اخلاق وآداب مرتب کے گےء کن رشتوں داروں سے بات چیت کی جاسکتی ہے اور کن کن لوگوں سے پردہ کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی عفت وعصمت محفوظ رہے
گھرمیں رہنے والے دیور جیٹھ وغیرہ سے بھی پردہ کعایاگیا تاکہ بدنگاہی نہ ہونے پاے اور گناہوں سے بچاجاے اس لےء کہ بدنگاہی ہی وہ پہلا قدم ہوتا جہاں اگر عورت پھسل گیء تو سمجھو کہ بات یہاں سے آگے بڑھ جاے گی اس لےء شریعت نے سب سے پہلے اسی پہ روک لگادی اور آقاے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمادیا کہ النظر سھم مسموم من سھام ابلیس۔۔الحدیث۔۔۔
نظر شیطان کی تیروں میں سے ایک زہریلی تیر ہے جو لگ جاے تو پھر عورت ہو یا مرد اس سے بچنا مشکل ہوجاے گا
اسی بدنگاہی سے گفتگواور بے پردگی کا آغاز ہوتا ہے پھر بات جسم فروشی وعصمت فروشی تک چلی جاتی ہے انسان اگر اس پہلے مرحلہ پر قابوپالے تو بعد والے گناہوں سے بآسانی بچ سکتا ہے یہی وجہ ہیکہ جس انسان کی نگاہ پاک نہیں ہوتی ہے اس کا دل بھی پاک نہیں ہوتا اورجب دلوں میں گندگی آجاے تو انسان کا سارا جسم اس گندگی میں ملوث ہوجاتا ہےبدنگاہی ایک گناہ بے لذت ہے جس کو آنکھ کا زنا بتلایاگیا ہے
بڑے افسوس کےساتھ کہنا پڑتا ہیکہ آج بدنگاہی والا گناہ ہمارے معاشرہ اور سماج میں عام ہوتا جارہا ہے بلکہ لوگ اس کو گناہ ہی نہیں سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن مجید نے واضح الفاظ میں اس کوبرائ کہا اور سخت مذمت بیان فرمای ہے
قل للمؤمنین یغضضوامن ابصارھم ویحفظوافروجھم
اے نبی آپ
مسلمان مردوں سے کہ دو کہ وہ نگاہوں کونیچے رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں اسی طرح کا حکم عورتوں کو بھی دیا گیا
قل للمؤمنات یغضضن من ابصارھن
آج مسلم معاشعرہ بدنگاہی کے کلچرل والے ماحول میں زندگی گذاررہاہے جہاں عورتوں کو سربازار لاکر کھڑا کردیا گیا ہء حالانکہ اس کامقام ومرتبہ اس کی عزت وعصمت کے تحفظ میں مضمر ہے آج بدنگاہی سے بچنا سب سے بڑا چیلینج بنا ہوا ہے جدھر دیکھو بدنگاہی عام ہے اسکول کالج یونیورسٹی شاپنگ مال بازار آفس ہر جگہ انسان کو اس گناہ سے بچنے کی ضرورت ہے
بدنظری سے انسان کے اندرعشق مزاجی ونفس پرستی کے جذبات پیداہوتے ہیں جوآگے چل کر بہت سارے مفاسد ومضرات جنم لیتے ہیں گرچیکہ بدنگاہی سے دلی کیفیت بدل جاتی ہے ساتھ ساتھ اس گناہ کے ظاہری جسم پربھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں
ضرورت اس بات کی ہیکہ اس گناہ کے نقصانات کوبڑے پیمانہ پر واضح کیا جاے اس کی قباحت وشناعت کو بیان کیا جاے تاکہ سماج اور معاشرہ اس بری عادت سے اجتناب کرسکے ۔۔۔
جاری