مگرافسوس
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
پوری روے زمین پر گناہ اور جرائم کی جو دنیا آج آباد ہورہی ہے جس قدرتیزی سے کرائم بڑھتے جارہے ہیں ان میں سے قابل ذکر جرم عظیم ایک عصمت ریزی اور زنابالجبر بھی ہے جو اندھادھن طریقہ پر عام ہوتاجارہا ہے گویا یوں لگ رہا ہیکہ آج سماج اور معاشرہ میں بنات حواء کی عصمت اور اسکی حیاء کا کوی ویلیو اوراہمیت باقی نہیں رہی خاص طورپر گذشتہ 10 سالوں میں یہ عصمت ریزی اور اجتماعی زناء نیز ہوس کی تکمیل کے بعد پوری بے دردی اور انسانیت سوز انداز میں لڑکیوں کو قتل کرنے کے واقعات نے تو یہ ثابت کرہی دیا کہ دنیا سے انسانیت مرچکی ہے
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(ncrb)کی رپورٹ کے مطابق 2012سے 2015 تک صرف ان چارسال کے عرصہ میں خواتین کے ساتھ ہونے والے ان مظالم اور عصمت ریزی کے واقعات میں 34فیصد اضافہ ہواہے نیز حیرت اس بات پر ہیکہ عصمت ریزی کی شکار خواتین میں 6سال کی ننھی بچی سے لےکر 60سال کی بوڑھی عورت بھی شامل ہیں 2015میں عصمت دری کے 34651معاملات درج رجسٹر تھے جو بڑھتے بڑھتے 2016میں 38947تک پہونچ گےء
ہرریاست اور اس کے ہر شہر میں ان واقعات کی روک تھام کے لےء قوانین بھی بناے گےء مگر بے سود ثابت ہوے اور واقعات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہی ہوامدھیہ پردیش اترپردیش سرفہرست تھے مگر افسوس کہ آج ملک کی ہرچھوٹی بڑی ریاست اس طرح کے واقعات سے پریشان ہیں جس کا آج کوی بھی قابل عمل علاج ڈھونڈ نکالنے سے حکومتیں عاجز نظر آرہی ہیں اس وقت ملک کی تمام مختلف عدالتوں میں عصمت دری کے لاکھوں واقعات زیرسماعت ہیں جس سے اندوزہ لگایا جاسکتا ہیکہ یہ گناہ کتنا عام ہوتاجارہاہے اور کس حد تک اس کی روک تھام کے لےء محنت درکار ہے باوجودیکہ عصمت دری کے گناہ کو خواتین کے خلاف ہونے والاسب سے بڑا چوتھا عام جرم ماناگیا ان سب کے باوجود اس انسانیت سوز حرکت میں کوی کمی ندارد
لگتاہیکہ ان درندوں کی فطرت ہی مسخ ہوچکی ہے جو اس طرح واقعات کا ارتکاب کرتے ہیں
کھٹوعہ کا دلخراش واقعہ ابھی بھلایانہیں گیا تھا کہ آٹھ سالہ آصفہ کے ساتھ چھ روز تک مسلسل اجتماعی درندگی کا دلسوز واقعہ سامنے آگیاکچھ ہی دن گذرے تھے کہ تلنگانہ کی ویٹنری ڈاکٹر خاتون کی عصمت ریزی اور بے دردی سے اس کے قتل کے مناظر ابھرنے لگ گےء ابھی انسانیت اس غمناک حادثہ سے سمبھلنے ہی پای تھی کہ اترپردیش کے اناؤ نامی گاؤں کے دلخراش واقعہ نے انسانیت کو دہلادیا کن کن واقعات کا ذکر کیا جاے کس کس علاقہ کی کہانی اور روداد سنای جاے کہیں 20 سالہ لڑکی تو کہیں 17 سال کی بچی تو کہیں 9 سالہ لڑکیاں ان درندوں کی ہوس کا شکار ہوکر موت کے بھینٹ چڑھتی جارہی ہے
جنسی جرائم کاایک نہ تھمنے والاسلسلہ جاری ہوگیا ہے خواتین وبنات حواء نہ سفرمیں محفوظ ہیں نہ ڈیوٹی پر محفوظ ہیں نہ اپنے محلہ اور گھروں میں محفوظ نظرآرہی ہیں
ان حالات کو دیکھتے ہوے دل لرزنے اور جگر کانپنے لگتا ہیکہ آخر کون سا قانون اوردستور بنایاجاے جس سے ان ہوس کے پجاریوں کو روکا جاسکتا ہے
اب قومی دارالحکومت دہلی ہی کے واقعات کو دیکھیں کہ ایک لوکل بس میں سفر کرتے ہوے ایک لڑکی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کا شکارہوی اور اب 27 اگسٹ 2021کو کانسٹیبل خاتون رابعہ سیفی بھی درندگی وہوس کی شکار ہوگئیں
کہاں ہے قوم کی رکھوالی کا دعوی کرنے والی حکومت اور اس کے کارندے
کہاں ہے بیٹیوں کو انصاف دلانے والا قانون بنانے والے قانون داں
آج انسانیت چیخ رہی ہے بنات حواء اور قوم وملت کی بیٹیاں تمہیں آواز دے رہی ہیں
کیوں ان کی عصمت کا تحفظ نہیں ہوپارہاہے
کب تک یہ درندگی کا کھیل اورعصمت دریوں کا ننگاناچ چلتارہے گا
کیا آج بنات حواء کی عزت اتنی ارزاں ہوچکی ہے کہ جن کے ساتھ اس طرح کے نازیباونارواحالات پیش آنے کے باوجود بھی حکومت اور اعلی عہدیداران اپنی خاموشی نہیں توڑیں گے
ہم پرزورمطالبہ کرتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں کہ رابعہ سیفی اور اس جیسی دیگر خواتین کے ساتھ پیش آنے والی انسانیت سوز حرکات کے مرتکب افراد کو جلد از جلد گرفتار کیا جاے ہندومسلم سکھ عیسای اورسماج کے ہرطبقہ کی خواتین کو تحفظ فراہم کیا جاے ان سب خاطیوں کو پھانسی پر لٹکایاجاے
قوم وملت کے لےء کام کرنے والی تمام ہی مذہب سے تعلق رکھنے والی جماعتوں اور تنظیموں کو آگےآکر دباؤ بنانے اور قانون کو لاگوکرکے متاثرہ خواتین کو انصاف دلوانے تک صداے احتجاج بلندکرنے اور قانونی چارہ جوی کرناچاہیے