تصویر الجزیرہ

وزیر اعظم نریندی مودی کے بنگلہ دیش پہنچتے ہی شدد پسندوں کے پُرتشدد مظاہرے۔ چارہلاک ۔ متعدد زخمی

تازہ خبر عالمی

دھاکہ:26؍مارچ
(زین نیوز ڈاٹ نیوز)
بنگلہ دیش میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے خلاف چند شدد پسند تنظیموں سے وابستہ کارکنوںکے احتجاج نے
پُرتشدد صورت حال اختیار کرلی۔ جن پر قابو پانے کے لئے بنگلہ دیش پولیس کو پہلے لاٹھی چارج ‘ ٹئیر گیس‘ اسکے بعد فائرنگ کاسہارا لینا پڑا جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق چار شہری ہلاک اور معتدد زخمی ہوگئے

یہ واقعہ جمعہ (26 مارچ) کی شام بنگلہ دیش کے اہم شہروں میں سے ایک چٹاگانگ میں پیش آیا۔وزیر اعظم نریندری مودی کے دورہ بنگلہ دیشن کے خلاف احتجاجیوں نے پر تشدد مظاہرہ کیا
جس میں سرکاری وخانگی املاک کونقصان پہنچایا گیا احتجاجیوں نے متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کردیا اورمزاحمت کے دوران پر
پولیس پر سنگ باری کی۔
چٹاگانگ میں نریندر مودی کے دورے کے خلاف حفاظتِ اسلام بنگلہ دیش گروپ نے احتجاجی مظاہرہ کیاجس سے بنگلہ دیش کی دارالحکومت ڈھاکہ دہل گئی ہے۔ مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں میں دو صحافیوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے

اور ایک اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے احتجاجی مظاہرین پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاںاس وقت چلائیں جبکہ وہ پولیس اسٹیشن میں داخل ہوئے اور بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی’۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین قابو سے باہر ہوگئے اور دارالحکومت ڈکہ میں مارچ کے دوران افسران عہدیداروں پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوگئے

واضح رہے کہ گذشتہ دس روز سے جاری 50 ویں یوم آزادی کی تقاریب میں شرکت کے لئے وزیراعظم ہند دوروز دورے پر آج دارالحکومت دھاکہ پہنچے جنھیں وزیر اعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجدنے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا تھا؎اج وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندوستانی کی دارالحکومت دہلی سے ڈھاکہ ائیر پورٹ پہنچنے پر سرخ قالین کے ساتھ والہانہ استقبال کیا گیا
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہوگیا کہ جنوبی ایشاء مملکتوں کے سربراہ بھی بنگلہ دیش کی گولڈن جوبلی تقریبات میں پہلے ہی شریک ہوچکے ہیں
جن میں سری لنکا اور مالدیب قابل ذکر ہیں
یہاں اس بات کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ ہند ۔پاکستان 1791 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کو آزادی ملنے کے بعد یہ مملکت بنگلہ دیش کی شکل میں وجو دمیں آئی جس کی آزادی کے لئے زبان کی بنیاد پر اسوقت کے بنگلہ دیشی بابائے قوم شیخ مجیب الرحمن نے مقامی شہریوں کو لیکر ایک بڑی تحریک چلائی تھی جو خون ریزی کے بعد آزادی حاصل کی
بنگلہ دیش کی گولڈن جوبلی تقاریب کے ساتھ بابائے بنگلہ شیخ مجیب الرحمٰن کی صد سالہ تقاریب بھی ایک ساتھ منائی جارہی ہے جس کا بنگلہ دیش حکومت نے پورے آب و تاب کے ساتھ اہتمام کیا ہے