بھینسہ فرقہ وارانہ تشدد حکومت کی ناکامی کا نتیجہ۔ریاستی حکومت کا علامتی پتلہ نذر آتش

بین الریاستی تازہ خبر

جگتیال:9؍مارچ
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
نرمل ضلع کے بھینسہ شہر میں دونوں طبقات کے درمیان پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جگتیال ضلع مستقر پر بی جے پی قائدین نے ریاستی حکومت کا علامتی پتلہ نذر آتش کیا اور مخالف حکومت نعرے بازی کی قبل ازیںآج صبح جگتیال پولیس نے بی جے پی قائدین کو حراست میں لیتے ہوئے جگتیال پولیس اسٹیشن منتقل کردیا تھا جو رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی۔اروند کے احکامات کے مطابق کہ(چلو بھینسہ)  بھینسہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے متاثرین کی امداد وعیادت کیلئے روانہ ہورہے تھے۔

بی جے پی ٹاون صدر مسٹر انیل کی قیادت میں بھینسہ فرقہ واردانہ فسادات کے لئے ریاستی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے بی جے پی کارکنوں کی جانب سے تحصیل چوراہے پر ریاستی حکومت کا پتلہ نذر آتش کیا ۔ اس موقع پر صدر بی جے پی جگتیال انیل نے مخاطب کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ حکومت کی لاپرواہی کے وجہ سے بھینسہ میں فرقہ وارانہ تشدد رونما ہوا ہے

انھوں نے بی جے پی قائدین کو بھینسہ جانے پولیس کی جانب سے قبل از وقت گرفتاری گھر پر نذر بند (ہاؤز اریسٹ)کو غیر دستوری عمل قرار دیا اور کہاکہ ریاستی حکومت ووٹ بنک بنانے اور اقتدار کی خاطر ‌مجلس،مسلمانوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے ہندوؤں کے جذبات کیساتھ کھلواڑ کررہی ہے‘ اور ریاستی حکومت مجلس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ گئی ہے۔ریاستی حکومت پر ہندوں کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کیا

ضلع جگتیال کے کورٹلہ‘ مٹ پلی‘ رائیکل‘ کتھلاپور میں بھی بی جے پی قائدین کی جانب سے احتجاج منظم کیا گیا اور ریاستی حکومت کا علامتی پتلہ نذر آتش کیا گیا