نئی دہلی:5؍اگسٹ
(زین نیوز؍ایجنسیز)
آرٹیکل 370 کی منسوخی کی دوسری سالگرہ کے موقع پر جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا "جب بے لگام جبر کیا جاتا ہے اور سنگین ناانصافیوں کا ڈھیر لگایا جاتا ہے تو اس کے وجود کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ "
محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹر ہنڈل پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ، "دو سال قبل اس سیاہ دن پر جموں و کشمیر میں ہونے والے ظلم ، بربریت‘ اذیت اور ہلچل کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی الفاظ یا تصاویر کافی نہیں ہیں

انھوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی دوسری سالگر ہ کے جشن کو سوگ کا دن قرار دیا۔آج جموں و کشمیر کے لیے سوگ کا دن ہے‘ محبوبہ مفتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بی جے پی جشن منا رہی ہے جبکہ کشمیر سوگ منا رہا ہے۔۔ ہم اس جشن کی مخالفت کریں گے۔ ہم حکومت کو پاکستان سے بات کرنے پر مجبور کریں گے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ بی جے پی حکومت نےآرٹیکل 370 کی منسوخی کے ذریعہ کشمیریوں پر 2019 میں ظلم ، بربریت کا آغاز کیا۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بی جے پی جشن منا رہی ہے جبکہ کشمیر سوگ منا رہا ہے۔ ہم اس کی مزاحمت کریں گے۔
No words or pictures are enough to depict the pain, torment & upheaval inflicted upon J&K on this black day two years ago. When unbridled oppression is unleashed & gross injustice heaped there is no other choice but to resist to exist. pic.twitter.com/xjVW3By6cl
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) August 5, 2021
جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کےدو سال مکمل ہونے پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے آج ایک احتجاج کی قیادت کی۔ محبوبہ نے احتجاج کے دورا ن مطالبہ کیا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں جاری مظالم‘ اور قتل عام کو روکا جائے۔
.@jkpdp chief @MehboobaMufti along with party leaders protesting against abrogation of #Article370 in #Srinagar #kashmir #Article370 pic.twitter.com/pWO3cEBmEc
— Sohil Sehran (@SohilSehran) August 5, 2021
انھوں نے کہاکہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے اور یہاں بے گناہوں کا قتل بند کیا جائے ، اسی طرح قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔ احتجاج کے دوران محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو قانون 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر میں نافذ کیا ہے ، ہم اسے بالکل قبول نہیں کریں گے۔ یہ کالا قانون ہے
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے خورشید عالم نے کہا "5 اگست ہمیشہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک منفی سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ایک سیاسی اور نفسیاتی دھچکاہے۔”
