مغربی بنگال میں تشددکے واقعات پر گورنر کا اظہار تشویش
کولکاتا:8؍ستمبر
(زین نیوز؍ایجنسیز)
مغربی بنگال کی شمالی 24 پرگنہ سیٹ سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ کے گھر پر تین خام بم پھینکے گئے۔ یہ واقعہ گھر میں سیکوریٹی اہلکاروں کی موجودگی کے بعد بھی پیش آیا۔ ریاستی گورنر جگدیپ دھنکھر نے بھی منگل کی رات پیش آنے والے واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ اور ریاستی بی جے پی کے نائب صدر ارجن سنگھ گھر پر بم پھینکے جانے پر موجود نہیں تھے۔ حالانکہ اس وقت اس کے خاندان کے افراد گھر پر تھے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر گھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی چھان بین کی تاکہ بم پھینکنے والوں کا سراغ لگایا جاسکے۔
West Bengal: Security personnel present near the residence of BJP MP Arjun Singh in North 24 Parganas
"Bomb explosions outside the residence of Member of Parliament Arjun Singh this morning is worrisome,” tweeted West Bengal Governor Jagdeep Dhankhar pic.twitter.com/Gg2XzhQmsr
— ANI (@ANI) September 8, 2021
ابھی تکبم پھینکنے والے افراد یا اس واقعہ کے پیچھے محرکات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے گورنر جگدیپ دھنکھر نے کہا ، ‘مغربی بنگال میں تشدد روکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ کے گھر کے باہر بم دھماکے ہوئے ہیں جو کہ امن و امان کے لحاظ سے تشویش کا باعث ہے۔
مجھے امید ہے کہ بنگال پولیس اس معاملے میں فوری کارروائی کرے گی۔ ان کی حفاظت کا معاملہ پہلے ہی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ اٹھایا جا چکا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بنگال میں انتخابات کے بعد کے تشدد کی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہیں۔
مغربی بنگال میں ان دنوں سی بی آئی انتخابات کے بعد تشدد کے معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ قتل ، عصمت دری اور تشدد کے کئی معاملات میں سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کر کے کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
Wanton violence in WB shows no sign of abating.
Bomb explosions as this morning outside residence of Member Parliament @ArjunsinghWB is worrisome on law and order.
Expect prompt action @WBPolice. As regards his security the issue has been earlier been flagged @MamataOfficial.
— Governor West Bengal Jagdeep Dhankhar (@jdhankhar1) September 8, 2021
کولکتہ ہائی کورٹ کے احکامات پر سی بی آئی نے کیس کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ قبل ازیں انسانی حقوق کمیشن کی ایک ٹیم نے ریاست میں تشدد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور ایک رپورٹ ہائی کورٹ کو دی۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر ، تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم ریاست کی ممتا حکومت اس تحقیقات کی مخالف ہے اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔