بی جے پی تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں امن نہیں چاہتی۔ اسد الدین اویسی
حیدرآباد: 23؍اگست
ٰ(عمران زین)
بھارتیہ جنتا پارٹی نے منگل کو اپنے گوشہ محل کےرکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کو پیغمبر اسلام کے خلاف ان کے مبینہ ریمارکس پر فوری اثر کے ساتھ معطل کردیا۔ بی جے پی کی سنٹرل تادیبی کمیٹی نے کارروائی کرتے ہوئے رکن اسمبلی گوشہ محل حیدرآباد راجہ سنگھ کو بی جے پی سے معطل کرتے ہوئےانہیں وجہ نمائی نوٹس جاری کی ہے۔
قومی بی جے پی کی تادیبی کمیٹی کے سیکریٹری اوم پاٹھک نےاس سلسلہ میں ایک مکتوب جاری کیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے راجہ سنگھ کی فوری طور پر بی جے پی سے معطلی پرعمل آوری ہوگی۔اور راجہ سنگھ سے جواز طلب کیا گیا ہے کہ کیوں نہ انہیں پارٹی سے خارج کیا جائے؟اس سلسلہ میں راجہ سنگھ سے اندرون دس یوم یعنی 2 ستمبر تک وضاحت طلب کی گئی ہے
"مرکزی تادیبی کمیٹی کے ممبر سکریٹری اوم پاٹھک کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں کہا گیا کہ آپ نے مختلف معاملات پر پارٹی کے موقف کے برعکس خیالات کا اظہار کیا، جو کہ اصول XXV کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کمیٹی کے ممبر سکریٹری اوم پاٹھک نے کہا کہ انہیں یہ بتانے کے لئے کہا گیا ہے کہ مزید انکوائری زیر التوا ہے، اور اگر کوئی ذمہ داریاں تفویض ہوں تو فوری اثر کے ساتھ راجہ سنگھ کو پارٹی سے معطل کر دیا جائے گا

راج سنگھ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو ملک بھر میں غم و غصہ کا باعث بن رہی ہے۔ مسلمانوں کی جانب سے توہین رسالت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ درحقیقت نوپور شرما کیس میں الجھی بی جے پی قیادت راج سنگھ سے سخت ناراض تھی اور انہیں پارٹی سے معطل کر دیا تھا۔
راجہ سنگھ کے متنازعہ ریمارکس نے حیدر آباد میں ان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہروں کو جنم دیا جس کے بعد انہیں منگل کو تلنگانہ پولیس نے گرفتار کر لیا۔ یہاں تک کہ تلنگانہ کے کئی بی جے پی قائدین نے اس گرفتاری کی مذمت کی، پارٹی کی مرکزی قیادت نے ان کے خلاف احکامات جاری کئے۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بی جے پی نے محسوس کیا کہ رکن اسمبلی کے ریمارکس پارٹی کے سابق ترجمان نوپور شرما کے قریب ایک بڑے تنازعہ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اسی طرح کا سفارتی ردعمل ہو سکتا ہے، جس سے اسے معطل کرنے پر اکسایا جا سکتا ہے۔
Fight with us politically but not like this. If PM Modi and BJP don't support these comments then they should react. I also condemn the slogans (Sar Tan Se Juda) that were raised and will say to those people to not take law in their hands: AIMIM chief Asaduddin Owaisi pic.twitter.com/IHVuADBfvg
— ANI (@ANI) August 23, 2022
ان ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے اےکل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سوال کیا کہ کیا پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنا بی جے پی کی سرکاری پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں امن نہیں چاہتی اور لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ پیغمبر سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔