حیدرآبایکم؍ستمبر
(نیوززین)
بی جے پی کے معطل گوشہ محل ایم ایل اے راجہ سنگھ کو جنہیں پولیس نے پی ڈی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہے جنہیں بی جے پی نے پیغمبر اسلام ﷺکی شان میں گستاخی پر معطل کیا تھا۔ ساتھ ہی بی جے پی کی تادیبی کمیٹی نے راجہ سنگھ سے جواب طلب کیا کہ انہیں کیوں نہ معطل کیا جائے۔اس کیلئے 10 دن میں وضاحت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
تاہم ایسا لگتا ہے کہ راجہ سنگھ جیل میں ہونے کی وجہ سے تادیبی کمیٹی کو وضاحت کرنے سے قاصر تھے۔ اس حکم میں راجہ سنگھ کی بیوی نے آج بی جے پی کی تادیبی کمیٹی کو ایک میل بھیجا۔
ایسا لگتا ہے کہ راجہ سنگھ کے ا فراد خاندان نے کمیٹی سے خط میں جواب دینے کیلئے کچھ اور وقت مانگاہے۔ دریں اثنا، تادیبی کمیٹی کی طرف سے دی گئی 10 دن کی حتمی مہلت کل (جمعہ)کو ختم ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی راجہ سنگھ کی بیوی نے کچھ اور وقت مانگاہے۔
راجہ سنگھ کو پیغمبر اسلام ﷺکی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹ پر کیے گئے ان کے جارحانہ ریمارکس کے بعد پارٹی نے معطل کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ منور فاروقی کے اسٹینڈ اپ کامیڈی شو کی اجازت دینے پر ریاستی حکومت کا "ردعمل” تھا۔
مسٹر پاٹھک کی طرف سے جاری شوکاز نوٹس میں انہیں یہ بتانے کے لئے 10 دن کا وقت دیا گیا ہے کہ انہیں کیوں نہ نکالا جائے کیونکہ انہوں نے پارٹی کے موقف کے برعکس خیالات کا اظہار کیا تھا۔ پوسٹ کے وائرل ہونے اور شہر کے مختلف حصوں میں احتجاج شروع ہونے کے بعد سٹی پولیس نے ایم ایل اے کو گرفتار کر لیا تھا اور پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا راجہ سنگھ پہلے رکن اسمبلی ہیں جو پی ڈی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوکر جیل میں ہیں ۔
واضح رہے کہ بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی راجہ سنگھ کی جانب سے پیغمبر اسلام کے خلاف بالواسطہ توہین آمیز تبصرہ پر
اس پراگندے رکن اسمبلی کے خلاف دبیر پورہ پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت کی گئی تھی۔جس پر دبیر پورہ پولیس نے تعزیراتی ہند کی دفعات 153، 153 اے، 188، 121، 295 اے، 298، 505 (1) (بی) (سی)، 505 (2) اور 506 کے تحت مقدمہ درج رجسٹر کیا تھا۔راجہ سنگھ کے خلاف پی ڈی ایکٹ درج کر کے اسے گرفتار کر کے چیرلہ پلی جیل منتقل کر دیا گیا ہے