قاری راؤ ساجد کے دفتر پر منعقد میٹنگ میں پارٹی کے ضلع صدر چودھری رودر سین کا خطاب
دیوبند،21؍ اگست
(رضوان سلمانی)
ریاست اترپردیش میں 2022میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے سماجوادی پارٹی ایک مرتبہ پھر اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتر گئی ہے اور اپنے کارکنان نبض ٹٹولنے میں لگی ہوئی ہے، اس تناظر میں آج سماجوادی پارٹی کے ضلع صدر چودھری رودرسین دیوبند پہنچنے پر ہائیوے پرواقع سابق درجہ حاصل ریاستی وزیر قاری راؤ ساجد کے دفتر کارکنان نے پرزور انداز میں ان کا گلپوشی کرکے استقبال کیا۔
اس موقع پر منعقد میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چودھری رودر سین نے کہاکہ 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی تانا شاہی کو ختم کرنے کے لئے اترپردیش میں صرف سماج وادی پارٹی ہی ایک متبادل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کسان مزدور، نوجوان طبقہ، پسماندہ طبقات کے ساتھ اس حکومت میں ناانصافیاں ہورہی ہیں ، اس سے آزادی حاصل کرنے کے لئے سبھی لوگ متحد ہوکر سماج وادی پارٹی کو کامیاب کرنے کا کام کریں ۔
رودر سین نے کہاکہ اس حکومت کے صرف چند ماہ باقی ہیں ،بی جے پی حکومت نے اپنی انتخابی منشور میں کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے ہیں، اس حکومت میں بے روزگاری میں اضافہ ہواہے، کیونکہ کورونا کے دور میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں، لیکن یہ حکومت خود میاں مٹھو بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ دیوبند عالمی شہرت یافتہ شہر ہے جہاں سے پوری دنیا میں امن وشانتی ،بھائی چارے کاپیغام جاتاہے اسلئے یہاں سے متحد ہوکر بی جے پی حکومت کو اس کی ناکامیوں کا پیغام دیاجانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ سماجوادی حکومت صوبہ میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوئے ہیں،طلبہ و طالبات کو لیپ ٹاپ سے لیکر بزرگوں کی پیشن اور بے روزگاروں کو بھتہ دینے تک ہماری حکومت نے سبھی کا خیال رکھاہے،
لیکن موجودہ بی جے پی سماجوادی حکومت کے ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کا ٹھپہ لگانے کی عوام کو بہکانے کی کوشش کررہی ہے،یوگی سرکار کی عوام دشمن پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یوگی حکومت اپنے مفاد پرست سیاسی اغراض کے لئے عوام میں نفرت و انتشار پیدا کررہی ہے، اسے عوام کی فلاح اور مسائل کے حل کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، یوپی کے عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جارہاہے، اسے عوام کے مسائل اور ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ سماجی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو بے بنیاد اور فرضی مقدمات کے تحت گرفتار کیاجارہاہے، لوگ حکومت کے غلط اقدامات اور فیصلوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں، انہوں نے یقین دلایا کہ خوف و دہشت کی فضا زیادہ دیر نہیں رہتی ہے،
اترپردیش کی عوام مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر آنے والے انتخابات میں بی جے پی کو شکست فاش سے ہمکنار کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ کسان گزشتہ نو ماہ سے اپنے اپنے جائز حقوق کے مطالبات کو لیکر سڑکوں ہے لیکن کسان مخالف اس حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے،جس سے بی جے پی کی کسان دشمنی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے متحد ہوکر سماجوادی پارٹی کو مضبوط بنانے اور اس حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی اپیل کی۔ سابق درجہ حاصل وزیر قاری راؤ ساجد نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ موجودہ حکومت میں قانون نظم ونسق ، خواتین کا استحصال ، بے روزگاری، مودی حکومت کے ذریعہ لائے گئے نئے زرعی قوانین کمرتوڑ مہنگائی نے لوگوں کا جینا محال کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت سے عام آدمی پوری طرح عاجز آچکا ہے ۔

خواتین ظلم وزیادتی کا شکار ہورہی ہیں لیکن موجودہ حکومت مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کا کام کررہی ہے۔ انہو ںنے کہا کہ ریاست اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور دوسری سیاسی جماعتوں کے لیڈران سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2022کے اسمبلی انتخاب میں پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو کی قیادت میں اکثریت کے ساتھ اترپردیش میں حکومت قائم ہوگی ۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کارکنان سے اپیل کی کہ وہ سماج وادی پارٹی کے دور حکومت میں عوام کی فلاح وبہبود کے لئے جو کام کرائے گئے ہیں اسے عوام تک پہنچانے کا کام کریں ۔انہوں نے کہاکہ اس مرتبہ سماجوادی پارٹی تین سو ئے زائد سیٹیں حاصل کرکے حکومت بنائے گی۔
میٹنگ کے دوران کارکنا ن نے ضلع صدر چودھری رودر سین سے قاری راؤ ساجد کو دیوبند اسمبلی سیٹ ٹکٹ دلائے جانے کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں راؤ مشکور علی،مظہر جبار،ملک معظم،نوشاد قریشی،چودھری ماجد،رام کشن سینی،پردیپ چودھری،چودھری پدم سنگھ، مولانا ابراہیم قاسمی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر محفوظ پردھان، شعیب پردھان،کلیم قریشی،اسلام قریشی،روہت شرما،چودھری جابر،مولانا انتظار،مبین پردھان،تحسین خاںا یڈوکیٹ،تو فیق احمد جگی،احمد انصاری،شفیق قریشی، عرفان،روی سینی وغیرہ سمیت بڑی تعداد میں کارکنان موجودرہے۔صدارت چودھری رودر سین نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ابرار حسن عثمانی نے انجام دیئے۔