تبلیغی جماعت سے جوڑ کر ایم بی بی ایس کے نصاب میں قابل اعتراض نصاب کی اشاعت

تازہ خبر قومی

ایس آئی او آف انڈیا کے اعتراض اور احتجاج پر نصاب حدف
ممبئی:16؍مارچ
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
ملک میں مسلمانوں کی تاریخ کے ساتھ چھڑچھاڑ کرتے ہوئے غلط طریقے سے پیش کرنے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کی فرقہ پرست ذہنیت کے حامل افراد کی جانب سے مسلسل کوششیں کی جاتی رہیں ایسی ایک کوشش معروف جئےپی برادرز پبلیشر دہلی نے کی ہے ۔
رواں سال کے شروع میں شائع ہونے والی ایک مشہور میڈیکل ریفرنس کتاب’’ "ایسنشیل آف میڈیکل مائکروبیولوجی‘‘ ایم بی بی ایس کے طلباء کے لئےکتاب شائع کی جس میں قابل اعتراض نصاب میں ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاو ٔ کو حضرت نظام الدین مرکز تبلیغی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔اس کتاب میں مارچ 2020 کے اوائل میں نئی ​​دہلی میں منعقدہ تبلیغی جماعت تبلیغی جماعت کا حوالہ دیا گیا ہے۔

چار ہزارسے زیادہ مقدمات والے کوویڈ 19 کے "دھماکہ خیز پھیلاؤ” کا الزام عائدکیا۔ حوالہ میں یہ دعویٰ کیا کہ نوہزار ہندوستانی اور40 ممالک سے 960 غیر ملکی اجتماع میں شریک تھے ، زیادہ تر معاملات غیر مہذب تھے۔کتاب میں  کلسٹر کوویڈ – 19 لعنت کے پھیلاؤ کے لئے تبلیغی جماعت کا اجتماع ایک اہم کارگر عنصر تھا ‘

دوسرے سال ایم بی بی ایس کے طالب علموں کے لئے شائع کی گئی اس نصابی کتاب کی معروف میڈو مصنفین ڈاکٹر اپروبا شاستری اور ڈاکٹر سندھیا بھٹ کے ذریعہ تصنیف کی گئی ہے ، جس کا پیش لفظ پالبھ رے اور سوجاٹھا سسٹلا نے لکھا ہے۔ جئےپی برادرز پبلیشر دہلی نے مبینہ طور پر تبلیغی جماعت کی شبیہہ کو بگاڑ کر پیش کی
جس کے بعداسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) جنوبی مہاراشٹرا یونٹ کی جانب سے احتجاج کرتے ہوئے اس کے تیسرے ایڈیشن میں "میڈیکل مائکروبیولوجی کے لوازمات” نامی کتاب پر شدید اعتراض اٹھائے اور فوری طور پر قابل اعتراض نصاب کو سے ہٹانےکتاب فروشوں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر ایس آئی او کے سکریٹری رفیق شہاب اور جوائنٹ سکریٹری مصدق معید نے کہا کہ یہ بات مقامی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ متعدد فیصلوںمیں گذشتہ سال ملک میں کوویڈ 19 کے پھیلاؤ میں تبلیغیوں کے کردار کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔ پولیس اور میڈیا کے کچھ حصوںنے تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے اور برادریوں میں تفریق پیدا کرنےکا م کیا تھا جس کی سپریم کورٹ نے بھی سرزنش کی ہے

ان میں سے ممبئی ہائی کورٹ کے کم از کم تین بڑے فیصلے ہیں۔ رفیق شہاب نے بتایا ، "اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ حوالوں کے بعد ، ہم نے یہ معاملہ کتاب کے پبلشروں اور مصنفین کے پاس اٹھایا جس کے بعد مصنفین ڈاکٹر اپروبا شاستری اور ڈاکٹر سندھیا بھٹ کی طرف سے وضاحت جاری کی گئی ہے ، مصنفین نے معافی نامہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ دوبارہ اشاعت میںتبلیغی جماعت کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کو حذف کردیا گیا ہے۔
"مصنفین کا کہنا ہے کہ "اگر ہم نادانستہ طور پر ‘میڈیکل مائکروبیولوجی کے لوازمات’ کے ہمارے تیسرے ایڈیشن کے مشمولات سےکسی مخصوص طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو معذرت خواہ ہیں
ایس آئی او نے مصنفین اور پبلشروں کےتبلیغی جماعت کے تعلق سے گمراہ کن حوالوں پرمعذرت اور متعلقہ نصاب کوہٹانے دوبارہ پرنٹنگ ایڈیشن میں غلطیوںدور کرنے کےعہد پر دلی خیر مقد م کیاہے