اسلامیہ گروپ آف کالج میں کھیل مقابلے اختتام پذیر
دیوبند،31؍ دسمبر
(رضوان سلمانی)
ہائر ایجوکیشن کے مشہور ومعروف ادارہ اسلامیہ گروپ آف کالج دیوبند نے گزشتہ کئے دنوں سے چلنے والے کھیل مقابلے شاندار طریقہ سے اختتام پذیر ہوئے۔ان کھیل مقابلوں کے دوران والی بال ،لمبی کود،100×100میٹر کی ریس ،بیڈمنٹن ،کھو کھو اور شوٹنگ جیسے کھیلوں کو بطور خاص شامل کیا گیا۔ان کھیل مقابلوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کھیلوں کے انچارج سومت چودھری نے کہا کہ چست اور تندرست جسم اور دماغ کی بہتر نشوونما کے لئے کھیل نہایت اہم کردار نبھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کھیل ہماری زندگی کا ضروری حصہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کھیل کئے قسم کے ہوتے ہیںجو ہمارے جسم کے ساتھ ساتھ دماغی نشو ونمامیں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔سمت چودھری نے طلبہ وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل تعلیمی مشاغل اور مطالعہ کے دوران اکثر تناؤ کی کیفیت پیداہوجاتی ہے ایسی صورت حال میں کھیل پیدا شدہ تناؤ کو دور کرنے کا بہتر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کھیلوں کو بھی اسی طرح ترجیح دی جانی چاہئے جس طرح ہم تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ دماغی نشو ونما کے لئے جس طرح تعلیم ضروری ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح جسمانی نشو ونما کے لئے کھیل نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سمت چودھری نے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ سے ہم ٹیم اسپرٹ کو نہیں سیکھ سکتے لیکن کھیلوں کے ذریعہ یہ ممکن ہے ۔
اس موقع پر کھیل مقابلوں میںحصہ لینے والی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔منعقدہ کھیل مقابلوں میں لڑکیوں کی ریا ٹیم نے کھو کھومیں جیت درج کی۔اسی طرح والی بال مقابلوں میں وشال کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔لڑکوں کی 100؍میٹر کی دوڑ میں عمر فاروق نے پہلا مقام اور حسین نے دوسرا مقام حاصل کیاجبکہ لڑکوں کے گروپ میں ہی لمبی کود مقابلوں میں محمد ارسلان نے پہلا اور محمد دانش نے دوسرا مقام حاصل کیا۔وہیں لڑکیوں کے گروپ کی 100؍میٹر دوڑ میں فاریہ نے پہلا مقام اور رادھا نے دوسرا مقام حاصل کیا۔لڑکیوں کے گروپ کی ہی شوٹنگ ٹیم نے بہترین نشانہ بازی کا مظاہرہ کیا اور بشریٰ نے پہلی وصبیحہ نے دوسرا مقام حاصل کیا
۔کھیل مقابلوں کی اس اختتامی تقریب میں اسلامیہ گروپ آف کالج کا اسٹاف ڈاکٹر محمد اخلاق،ڈاکٹر انور پاشا،نور الحسن،ڈاکٹر بشری شفیق،ڈاکٹر پروین یادو،ڈاکٹر فخر الدین،ڈاکٹر وکیل احمد،ڈاکٹر عزیز الرحمن صدیقی،صبیحہ خان ،صالحہ،نیہا سینی،خالدہ،شرون کمار،ندیم احمد،صاحب علی اورشرون کمار کے علاوہ طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد موجود رہی۔جن میں عامر،گورو،عافیہ،گلناز،رچنا،کپل،دھرو،مسکان اور اننت راج وغیرہ بطور خاص موجود رہے۔
