تعلیمی نصاب ایسا ہونا چاہئے جو خواتین کو ان کے فرائض اور صلاحیتوں سے بھی آگاہ کرتا رہے: صبا حسیب

تازہ خبر قومی

دیوبند، 9؍ اکتوبر
(رضوان سلمانی)
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی پیدائش کی نسبت سے ہر سال 9 نومبر کو عالمی یوم اردو منایا جاتا ہے۔اسی نسبت سے دیوبند کے قدیم تعلیم نسواں کے عصری تعلیمی ادارہ پبلک گرلز انٹر کالج میں یوم اردو کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔

اس موقع پر طالبات کے علاوہ اسکول ٹیچرز نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری ،ان کے حالات زندگی اور اردو کے تئیں ان کی محبت اور اس کے فروغ میں ان کی لازوال شاعری سے متعلق خطابات کئے گئے۔اس موقع پر ادارہ کی پرنسپل صبا حسیب صدیقی کا ایک پیغام علالت کے باعث ان کی عدم موجودگی میں پڑھ کے سنایا گیا۔

صبا حسیب صدیقی نے طالبات وٹیچرز کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پوری دنیا میں اردو وفارسی کے مشہور شاعر علامہ اقبال کے یوم پیدائش کو عالمی یوم اردو کے طور پر منایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ یہ گنگا جمنی تہذیب کی ایک شاندارعلامت ہے۔اردو زبان ہندوستان کی ثقافتی اور تہذیبی میراث بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردو زبان پورے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں یہ زبان اپنی شیرینی کے باعث موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔صبا حسیب نے کہا کہ علامہ اقبال خواتین کے لئے تعلیم کو نہایت ضروری سمجھتے تھے لیکن ان کا کہنا یہ تھا کہ تعلیمی نصاب ایسا ہونا چاہئے جو خواتین کو ان کے فرائض اور صلاحیتوں سے بھی آگاہ کرتا رہے ۔

اسلئے ہمیں شاعر مشرق کے پیغام پر عمل کرتے ہوئے خواتین کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دینی چاہئے۔بعد ازاں ادارہ کی سینئر ٹیچر شبانہ ذکی نے بھی یوم اردو اور موجودہ دور میں خواتین کی تعلیم کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو آسانی سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ آپؐ کے زمانہ میں خواتین کے یہاں حصول علم کے لئے کس قدر شوق اور جذبہ پایا جاتا تھا،اور اس جذبہ کی قدر کرتے ہوئے خود نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی تعلیم وتربیت کا اہتمام فرماتے تھے۔

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال بھی حضور اکرم ؐ کے اس عمل کی پیروی کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ خواتین کو اگر اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھا جائے گا تو وہ ہماری قوم اور اس کے مستقبل کے لئے مضر ثابت ہوگا۔اس موقع پر زینب سنبل نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اردو زبان کی طرف سے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا تو اردو زبان کو باقی رکھنے کے لئے کوئی باقی نہیں رہے گا اسلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں جہاں اردو زبان بھی ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھا ئی جاتی ہو۔

انہوں نے تعلیم نسواں کی اہمیت پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کی طرح ہم سب بھی تعلیم نسواں کو نہایت ضروری سمجھتے ہیںکیونکہ جب تک خواتین اعلیٰ ومعیاری تعلیم سے آراستہ نہیں ہوں گی تب تک ہماری آنے والی نسلوں کا بہتر طریقہ سے تعلیم یافتہ ہونا اور ثقافت وتہذیب سے واقف ہونا ممکن نہیں ہے۔اس کے علاوہ پبلک گرلز انٹر کالج کی دیگر ٹیچرز و طالبات نے بھی عالمی یوم اردو کے مناسبت سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر تدریسی عملہ کے علاوہ کثیر تعداد میں طالبات موجود رہیں۔