تمام انجمنیں وادارے مشترکہ کوششیں کرنے سے اردوکوفروغ ہوگا
حیدرآباد: 18؍جولائی
(پریس نوٹ)
ہندوستان میں فروغ اردو کے لیے حیدرآباد نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں کی انجمنیں ،ادارے اور شخصیات ہمیشہ اردوزبان کی ترقی کے لیے کوششیں کرتی رہتی ہیں۔ کئی شخصیات دن رات اردوزبان کی ترقی کے لیے اپنے ذاتی سرمایہ اور محنت سے ادبی اجلاس ومشاعرے منعقدکرتے ہیں۔ ہرفرد اپنا رول ادا کررہا ہے ۔
ایسے میں ضروری ہے کہ حکومت اورحکومت کے اداروں کو ان تمام لوگو ں کوساتھ لیکرچلنا چاہئے۔ ان کی پذیرائی کرنا حکومت کے ان اداروں کیلئے فرض ہے۔ ان خیالات کااظہارماہنامہ تاریخ دکن کی جانب سے ذیمریس اے بی سی ہال وجئے نگرمیں ڈاکٹرمختاراحمدفردین کی حیدرآباد واپسی پرمنعقدہ ادبی وتہنیتی اجلاس سے مقررین نے کیا۔
مقررین نے حال ہی میں اردواکیڈیمی تلنگانہ کی جانب سے منعقدہ پانچ روزہ ورکشاپ پرگفتگوکی۔ ورکشاپ کا مقصد اردو صحافیوں کی تربیت تھا جو ایک اچھی کوشش ہے ۔ایسی کوششیں ہوتی رہنی چاہئے ۔ان ورکشاپ میں صحافت سے جڑی اہم شخصیات کوبھی شامل رکھاجائے تومزید لوگ استفادہ کرسکتے ہیں۔ مشہور صحافی، عزیز برنی،راجیش رائنا،معصوم مراد آبادی،سہیل انجم،عامرعلی خان(آئی اے ایس)،مبشرخرم ، شجاعت علی صوفی، ڈاکٹرسید فاضل حسین پرویز، ایس جے افتخار، ،محمدریاض ،شجیع اللہ فراست ، غضنفر علی اوردیگراہم صحافیوں کوبھی اس ورکشاپ میں خطاب کے لیے بلایاجاسکتاتھا ۔
مقررین نے کہاکہ اردو زبان کی بقاء اسی وقت ہوسکتی ہے جب نئی نوجوان نسل اردو زبان سے جڑے۔ اس کے لیے ہمیں ریسڈینشل اسکول اوردیگر حکومت کے اسکولوں اور کالجوں میں اردو مضمون پڑھانے پر زوردینا چاہئے۔ انگریزی میڈیم اسکول میں اپنے بچوں کوشریک کراتے وقت والدین کواسکول انتظامیہ پرزوردینا چاہئے کہ ایک مضمون اردو بچوں کوپڑھایاجائے۔اس موقع پرڈاکٹرمختاراحمدفردین کی گلپوشی اورشالپوشی کی گئی۔
ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ڈاکٹرمختاراحمدفردین نے ماہنامہ تاریخ دکن کی جانب سے اس تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اتنا توکوئی مکمل نہیں ہوتا جس کی پذیرائی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے ۔ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری اورمحسن خان نے کررکھا ہے۔ اتنا ضرورہے کہ انسان کو دلوں میں بسایا کرے اور سبھی کوساتھ لیکرچلے ۔گھروںمیں توسبھی بستے ہیں اصل تو دل میں بسنا چاہئے۔
میراپیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ۔ڈاکٹرایم اے ساجد( صدر ادبی فورم ذیمریس) کی صدارت میں منعقدہ اس ادبی وتہنیتی اجلاس سے محمدآصف علی،ڈاکٹرسید حبیب امام قادری، محسن خان، جہانگیر قیاس، نصراللہ، سید اصغر ، فضل عمر، خواجہ سعیدالدین اوردیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پردلیپ کمار کو زبردست خراج عقیدت پیش کیاگیا اور تجویز پیش کی گئی کہ ان کی یاد میں بڑے پیمانے پرایک پروگرام منعقدکیاجائے۔ اس موقع پرمنعقدہ مشاعرہ سے جہانگیر قیاس، سیداصغر اور فضل عمر نے کلام سنایا۔ محسن خان کے شکریہ پراس محفل کا اختتام عمل میں آیا۔
