تلنگانہ میں 91,142 جائیدادوں کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے سی آر کا اعلان

تازہ خبر تلنگانہ

تلنگانہ میں بے روزگاروں کے لیے بہت بڑا تحفہ.. 91، 142 ملازمتوں کی تبدیلی شروع

اٹینڈر سے لیکر آرڈ ی او تک کے عہدوں پر مقامی لوگوں کو 95 فیصد ریزرویشن

حیدرآباد: 9؍مارچ
(زین نیوز)

چیف منسٹرمسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ اسمبلی کے موازنہ اجلاس سال برائے 2022-23میں ایک اہم بیان دیا ہے۔ توقع کے مطابق سرکاری نوکریوں پر بڑے پیمانے پرتقررات عمل میں لانے کاخود کے سی ار نے اعلان کیا اور کہا کہ جملہ91,142 ملازمتوں کے لئے بھرتی کا عمل آج ہی سے شروع ہوگاجس میں سے 80,039جائیدادوں کا نوٹیفکیشن کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ 11,103کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو مستقل کیا جائے گا۔۔ یہ اعلان کرتے ہوئے کہ ان کی روزگار دوست حکومت ہے اور سب سے زیادہ تنخواہ کے حامل ملازمین تلنگانہ میں ہیں کے سی ار نے الزام لگایا کہ مرکز کے رویہ کی وجہ سے بھرتی کے عمل میں تاخیر ہوئی ہے۔

تلنگانہ کی تشکیل ملک کی تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پولیس کی لاٹھیاں بھی کھائیں۔ تلنگانہ کو لامتناہی امتیازی سلوک اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاست دوسری پارٹیوں کے لیے کھیل ہے لیکن ٹی آر ایس کے لئے ایک کام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نئی ریاست لانے والے ہم ہیں اس سے عوام بخوبی واقف ہیں کہ ہم نے کیا کیا۔ علحدہ ریاست کیلئے جدوجہد کی گئی۔ اس کیلئے جیل کیصعوبتیں اور شخصی الزام تراشیوں کو تک برداشت کیا گیا تاکہ ہم اپنا مقصدحاصل کرسکیں۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ہم نے تلنگانہ کے لئے ہنگامہ آرائی اور مصائب کا سامنا کیا ہے۔ تلنگانہ زبان کبھی مضحکہ خیز ہواکرتی تھی۔ تلنگانہ لہجہ کو فلموں میںجو کبھی جوکر استعمال کرتے تھے ۔

اب اس زبان کو ہیرواستعمال کر کے کامیابی کے زینے طئے کررہے ہیں۔ سرکاری طور پر تما م طبقات کے تہوار منا رہی ہے جس کے ذریعہ ہم نے ثقافت کو محفوظ رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کا مقصد پانی، فنڈس اور، تقررات کے حصول کیلئے جدوجہد کی گئی۔ ہم نے گوداوری کے پانی کو حاصل کر لیا ہے۔ تلنگانہ کے لیے طلبہ نے بھی جدوجہد کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اس مقصد کے تحت کہ اس میں دو دن کی تا خیر ہی کیو ںنہ ہونیک مقصد کیلئے ہماری حکومت نے کا م کیا۔ اب تک ایک لاکھ 30 لاکھ نوکریوں پر بھر تیاں کی گئیں۔

مزید 56 لاکھ نوکریوں کی شناخت کی گئی۔ انہوں نے بتا یا کہ میں نے ذاتی طور پر صدر اور وزیر اعظم سے بات چیت کر کے اس مسئلہ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ریاستی حکومت کی مساعی کی وجہ نچلے کیڈر آفس سب آرڈینیٹ سے آر ڈا او کے اعلی کیڈر تک سرکاری روزگار میں مقامی امیدواروں کے حق میں 95فیصد تحفظات کی عمل آواری یقینی ہوئی ۔ تلنگانہ پورے ملک میں واحد ریاست ہے جس نے سرکاری خدمات کیلئے تقررات میںمقامی امیدواروں کو 95فیصد تحفظات حاصل ہوئے ۔ مقامی لوگوں سے لے کر حاضرین تک آرڈی او تک۔ اساتذہ کو ترقیاں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ 9ویں اور 10ویں کے شیڈول کے مسئلہ کو ابھی تک بھی حتمی شکل نہیں دی گئی ۔کچھ اور زیر التواء ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں ضلعی سطح پر 39,829 آسامیاںہیں ان میںحیدرآباد- 5,268‘نظام آباد- 1,976‘میڑچل ۔ملکاجگیری – 1,769‘رنگاریڈی- 1,561‘کریم نگر-1,465‘نلگنڈہ۔1,398‘کاماریڈی- 1,340‘کھمم – 1,340‘بھدرادری کتہ گوڑم- 1,316‘ناگر کرنول -1,257‘سنگاریڈی -1,243‘محبوب نگر- 1,213‘عادل آباد۔1,193‘سدی پیٹ- 1,178‘محبوب آباد:1,213ہنمکنڈا- 1,157‘میدک- 1,149‘جگتیال-1,063‘منچریال-1,025‘یادادری-بھونگیر- 1,010‘جے شنکر بھوپالاپلی- 918‘نرمل-876‘ورنگل-842‘کمرم بھیم آصف آباد- 825‘پداپلی-800‘ جنگاؤں-760‘نارائن پیٹ۔ 741‘وقارآباد-738‘سوریہ پیٹ-719‘ملگ- 696‘جوگولمبا گد وال-662‘راجنا سر سلہ- 601 اورونپرتی۔556 شامل ہیں۔

زونل سطح پر 18,866اورملٹی زونل میں 13، 170 نوکریاں اور دیگر زمرے، یونیورسٹیوں میں 8,174 پوسٹ قابل ذکر ہیں۔چیف منسٹر نے بے روزگاروں کے جاب کیلنڈر کے اعلان بھی کیا۔کے سی آر نے واضح کیا کہ ملازمتوں کے لئے اعظم ترین حدعمر میں دس سال کا اضافہ کا اعلان کیا اور بتایا کہ او سی امیدواروں کی اعظم ترین حدعمر 44 سال ‘ایس سی، ایس ٹی اور بی سی امیدواروں کے لئے 49 سال ‘
معذورین کیلئے54 ‘سابق فوجیوں کے لئے 47سال کردی گئی ہے جبکہ محکمہ داخلہ میں عمر کی حد میں کوئی رعایت نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ کل 80,039 جائیدادوںمیں سے سب سے زیادہ 18,334 محکمہ داخلہ میں ہیں۔اسکولی تعلیم میں 13,086 ‘ ہیلتھ، میڈیکلوفیملی ویلفیئر میں 12,775 ‘ اعلی تعلیم میں 7,878، بی سی میں 4,311، ریونیو میں 3,560، شیڈول کاسٹ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ میں 2,879، آبپاشی میں 2,872،قبائلی بہبود میں2,399‘ اقلیتی بہبود میں1,825‘ ماحولیات ‘جنگلات‘ سائنس و ٹیکنالوجی میں1,598‘ پنچائت راج ودیہی ترقیات میں1,455‘ محنت وروزگارمیں1,221‘ فینانس میں 1,146‘ بہبود خواتین‘ اطفال‘معذورین و معمرین میں895‘ بلدی نظم نسق و شہری ترقی میں859‘زراعت و کوآپریشن میں801‘ حمل ونقل‘ عمارات وشوارع میں563‘ قانون میں 386‘ افزائش مویشیاں و سمکیات میں 353‘نظم نسق عامہ میں343‘ صنعت و تجارت میں233‘امور نوجوانان ‘ سیاحت و ثقافت میں184‘ منصوبہ بندی میں136‘ تغذیہ و عوامی تقسیم نظام میں 106‘ مقننہ میں25اور تونائی میں 16شامل میں۔

انہوں نے کہاکہ ریاست میں بہت سی پارٹیاں کنٹراکٹ نوکریوں کے استقلال کے خلاف عدالت گئیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان کا یہ احساس ہے کہ کہ کنٹریکٹ ملازمین مستقل ملازمین سے زیادہ محنت کرتے ہیں اس کے باوجود ان کی تنخواہیں کم رہتی ہیںوہ یہ چاہتے تھے کہ کنٹراکٹ کے نام پر ان کا استحصال نہ ہو۔ اسی لئے11 ہزار 103 کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جاب کیلنڈر بعد میں جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بتدریج ملازمت کی تبدیلی ہوگی۔ کے سی ار نے کہا کہ ریاست نے پہلے ہی 1.56 لاکھ نوکریوں کی شناخت کی اور 1.12 لاکھ نئی جائیدادوںکی منظوری دی گئی ۔ انہوں نے بتایان کہ تلنگانہ میں 1,33,940 ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔