جانورکی خریدی سے تقسیم گوشت تک کے مراحل کو ان شاء اللہ تفصیلی مسائل ومقاصد کے ساتھ پیش کیا جاے گا
قسط اول
ازقلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء
امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
دین نام ہے اللہ ورسول کومان کر ان کی اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ اپنے معمولات عبادات معاشرت اخلاقیات کو سنوارنے اور بنانے کا اسی طرح ہماری خواہشات بھی ان کے دین کے تابع کردینے کا نام دین واسلام ہے
خودنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے
لایؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعالماجئت بہ
تم میں سے کوی بھی انسان اس وقت تک مومن کامل نہیں ہوسکتا تاآنکہ تمہاری اپنی خواہشات میرے لاے ہوے دین کے تابع نہ ہوجائیں
تو اس روایت سے معلوم ہوتا ہیکہ بندہ کی ہر خواہش وآرزو دین بن جاے تو ہی وہ مومن کامل بن جاے گا
اور واقعہ بھی ایساہی ہیکہ اگرہم اپنی مرضی کے مالک بن کر اپنی ڈگر پر قائم رہیں اور شریعت اسلامیہ کے بتاے ہوے طور طریقوں اس کی بتای ہوی عبادات کو نظرانداز کر کے اپنی چاہت کو مقدم رکھیں تو یہ دین نہیں کہلاے گا
بلکہ ایسادین پرچلنا تو یہودیوں اور بنی اسرائیل کے پاس بھی تھا کہ وہ لوگ جو حکم شریعت اپنی مرضی کے مطابق پاتے اس پر عمل پیرا ہوجاتے اور جو حکم اپنی مرضی اور منشاء کے خلاف دیکھتے تو اس کو یاتوسرے سے ہی ترک کردیتے یا اس میں چہ میگوئیاں اور حیلے بہانے ڈھونڈکر نظرانداز کرتے اور اس حکم سے اعراض کرلیتے
بنی اسرائیل میں ایک شخص کا قتل ہوا تھا انہوں نے قاتل کاپتہ لگانا چاہااور حضرت موسی علیہ السلام سے اس سلسلہ میں راہ نمای چاہی تو آپ نے بحکم خداتعالی ان کو ایک بیل جانورذبح کرنے کا حکم دیا تو ان لوگوں نے اپنی مرضی پر عمل کرتے ہوے حیلے تلاش کئے اور کہاکہ موسی کیاتم ہمارے ساتھ مذاق کررہے ہو
کہاں قاتل اور کہاں ذبح جانور جن کا آپس میں کوی میل جول نہیں
بالآخر اس عمل کو ان لوگوں نے چھوڑ ہی دیا اور بعد میں مزید حیلے بہانے تلاش کرنے لگے کہ اس کا رنگ کیسا ہو اس کی عمر کتنی ہودیکھنے والوں کو وہ جانور کیسانظر آتا ہوں وغیرہ وغیرہ
بہرکیف
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مقصدقربانی کو پیش نظر رکھیں آج امت کا ایک بڑا طبقہ اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود اس کو مدنظر رکھنے میں ناکام نظرآتا ہے
حالانکہ ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ سے بارہ تاریخ کی عصر تک ایام نحر میں کی جانے والی قربانی والا عمل جو ایک اہم ترین عبادت اورشعائر اسلام ہے اس حوالہ سے ہماری سوچ اور فکر کتنی اچھی پاکیزہ اور صاف نیت والی ہونی چاہیے یہ ہرصاحب قربانی جانتااورمانتاہے
چونکہ ابھی یہ قربانی والے ایام آنے والے ہیں اس سے پہلے پہلے ہم سب کو اپنی نیتوں کو درست کرکے اس عمل کو ریا وشہرت سے پاک کرنے کی فکر اور سعی کرلینا چاہیے اس سلسلہ میں چند باتیں قارئین اور عام مسلمانوں کی راہ نمای اور اپنی ذمہ داری سمجھ کر تحریر کےء جارہے ہیں اس نیت سے کہ اللہ پاک لکھنے اورپڑھنے والوں کو توفیق فہم وعمل سے نوازے
سب سے پہلے عرض ہیکہ قربانی ایک اہم عبادت اور تقرب خداوندی کا سبب ہے جس کا مقصد اصلی یہ بتایا گیا کہ
لن ینال اللہ لحومھا ولادمائھا
کہ قربانی کرنے والے کے جانور کا گوشت یاپوست اور خون اللہ کے پاس نہیں پہونچتے ہاں لیکن تمہارے دلوں کا تقوی اور خوف خدا اللہ کے نزدیک معتبر ہوتا ہے اس لےء اس عمل کو خالصۃ لوجہ اللہ کرنا چاہیے
عالم اسلام کے مسلمان اس بات سے اچھی طرح واقفیت اور جانکاری رکھتے ہیں کہ قربانی کاواقعہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل کے ایک تاریخی واقعہ سے تعلق رکھتا ہے وہ واقعہ بھی ایساکہ جس کے تصور سے ہی ایک باحمیت انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجائیں بدن پر کپکپی اور رعشہ طاری ہوجاے دلوں میں انتہای درجہ کا خوف خدا اور ڈر آجاے کہ 86 سال کے ایک بوڑھے باپ کو آرزؤں اور تمناؤں کے بعد اولادملی اور اس کو بھی قربان کرنے کا حکم الہی ہورہا ہے
جس سے صاف واضح ہوتا ہیکہ جانور یا انسان کو ذبح کرانا مقصد قربانی نہیں ہے بلکہ اپنی خواہشات اور دلی جذبات کو باری تعالی کے حکم کے آگے قربان کرانا مقصد اصلی ہے ہم بھی جانور کی خریداری کرتے وقت اسی محبت ابراہیم اورجذبہ اسماعیل کو پیش نظر رکھیں اور آگے کے تمام مراحل میں اطاعت وانقیاد کی نیت سامنے رکھ کر قدم قدم پر ان دونوں باپ بیٹے اور ماں کے قربانی والے جذبات کو یادکرتے رہیں
جاری