جماعت اسلامی کے سابق امیر مولانا جلال الدین عمری کا انتقال ملت کے لئے عظیم خسارہ 

تازہ خبر قومی
مفتی ارشد فاروقی، سید عقیل، مفتی وقاص ہاشمی کا اظہارتعزیت
دیوبند، 28؍ اگست
(رضوان سلمانی)
جماعت اسلامی کے سابق امیر مولانا سید جلال الدین عمری کے انتقال پر علماء ودانشوران کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی سلسلہ میں مدرسہ تعلیم القرآن دارالمسافرین (پرانا اصغریہ) کے مہتمم سید عقیل میاں حسین نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا مرحوم کے انتقال کی خبر سے مجھے گہرا رنج ہوا ، مرحوم نے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ کے لئے خاص طور پر اسلامی اتحاد کے مختلف پہلوئوں میں وقف کردی۔ مولانا عمری کی وفات کی سے معاشرہ کا ایک ستون گرگیا ۔
 وہ ایک مشہور مصنف اور خطیب تھے۔ انہو ںنے پوری زندگی دین کی دعوت معاشرہ کی تربیت اور ملت ومظلوموں کی مدد میں گزاری۔ وہ سنجیدہ مزاج ، دوررس او رہمہ جہت خوبیوں کے حامل تھے، ملی تنظیموں کے اتحاد اور مشکل اوقات میں انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم ایک بہترین مقرر کے علاوہ ایک عمدہ قلم کار اور مصنف بھی تھے، آپ کے مضامین نہایت بصیرت افروز اور پرمغز ہوا کرتے تھے ۔
 انہوں نے کہا کہ موصوف ، علم اور تدبر ، دانائی اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے ، جماعت اسلامی ہند کے اپنے 10سالہ دورِ امارات میں انہوں نے ملت کے لئے بہت کچھ کیا ، وہ ایک اچھے انسان تھے ، ان کی خدمات قابل قدر ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
مفتی محمد ارشد فاروقی چیرمین فتویٰ آن موبائل سروس دیوبند نے اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا سید جلال الدین عمری سابق أمیر جماعت اسلامی ہند کے انتقال کو ایک عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صف اول کے معتدل ،متوازن فکر کے عالم باعمل ،قدیم طرز کے علماء کے مزاج سے ہم آہنگ ،دورفرہنگ کے ناقداورشریعت کی تعلیمات حکیمانہ اسلوب میں پیش کرنے والے بڑے داعی ومناد تھے ۔
ان کی طبیعت میں میں مومنانہ سادگی اورزیرکی و ہوشمندی تھی ۔ انہوں نے کہا وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر ہونے کے علاوہ بیشتر ملت کے مفاد میں ہونے والے پروگراموں میں اسٹیج کی رونق ہوتے۔
 جب جماعت اسلامی ہند نے شریعہ کونسل قائم کیا تو صدر مولانا بنائے گئے۔ بحیثیت رکن راقم مجالس میں شریک ہوتا توبڑی شفقت فرماتے اور مسائل کے حل میں حددرجہ متصلب تھے ،بڑے فقہاء کی آراء سے فائدہ اٹھاتے اورتساہل سے گریزکرتے سہولت پر نظر رکھتے اور یہ نتیجہ تھا مصادرشریعت کے گہرے مطالعے اور احوال زمانہ سے بھرپور واقفیت کا کبھی شاذونادر اورضعیف رائے پر عمل کا مشورہ نہیں دیا، ان کے اس طرز عمل سے جواں سال علماء کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
 انہو ںنے کہا کہ مولانا کی طبعی شرافت، علمی وقار، داعیانہ کردار، قرآنی شغف اورمثالی سادگی وتقویٰ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مولانا کے گھرانے اورحلقے سے کویت کے داعی شیخ عبد الحمید جاسم البلالی نے اظہار تعزیت کیا اوران کی دینی خدمات کو سراہااللہ درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
 ہاشمی روحانی مرکز کے چیئرمین اور مولانا حسن الہاشمی کے جانشین مولانا مفتی وقاص ہاشمی نے مولانا مرحوم کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا جلال الدین عمری کے انتقال سے ملت کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے وہ ایک عالم دین تھے ، ان کی نظر قرآن وحدیث کے ساتھ تفاسیر ، شروح و حدیث وفقہی مصادر پر بھی رہتی تھی ۔
مولانا مرحوم عالم اسلام کی ممتاز شخصیات میں سے تھے، انہوں نے مختلف میدانوں میں دین اسلام کی عظیم خدمات انجام دیں۔ عقائد، عبادات، معاشرت، معاملات اور سیاست پر درجنوں کتابیں تصنیف کیں ، ہمیشہ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں متحرک رہے۔ انہو ںنے ہندوستان میں مسلمانوں کے تمام ملی وسیاسی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم کا والد محترم مولانا حسن الہاشمی ؒ سے والہانہ تعلق تھا، بہت سی مرتبہ والد محترم کے ساتھ ان سے ملاقات ہوئی اور وہ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کی وفات ملت اسلامیہ کے لئے ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔