تعزیتی جلسے سے جناب محمد محمود علی، عزیز پاشاہ اور ظہیرالدین علی خاں کا خطاب۔ وقار پاشاہ کے مشن کو جاری رکھنے احمدامیر خاں کا اعلان
حیدرآباد:23؍ڈسمبر
(پریس نوٹ)
ریاستی وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی نے اس بات کا یقین دلایا کہ ایڈیٹر رہنمائے دکن و چیرمین ا نڈوعرب لیگ حیدرآباد جناب سید وقارالدین کے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاکر اگر کسی نے ان کے ساتھ فراڈ کیا ہے تو وہ قانون کے شکنجہ سے بچ نہیں سکتا۔ قانون کے انصاف میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ 22؍دسمبر کو ورکنگ جرنلسٹس اسوسی ایشن پرنٹ، الکٹرانک اینڈ سوشیل میڈیا کے زیر اہتمام مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں جناب سید وقارالدین کے تعزیتی جلسہ سے وہ خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے جناب سید وقارالدین کی ملی اور صحافتی خدمات کو متاثرکن الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وقار پاشاہ کو اپنا بڑا بھائی مانتے تھے۔ وہ انتہائی مخلص شریف انسان تھے۔ ہر ایک کے دُکھ درد میں شریک رہتے تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو فلسطینی کاز کے لئے وقف کردیا تھا۔ آخری لمحے تک بھی انہیں فلسطین کی فکر تھی۔
جناب محمد محمود علی نے کہا کہ وقار صاحب کی علالت کے دوران ان کے ساتھ اگر کچھ غلط ہوا ہے جیسا کہ انہیں خبریں مل رہی ہیں‘ تو وہ ضرور کاروائی کریںگے مگر اس کے لئے وقار صاحب کے ارکان خاندان کو صبر و تحمل کے ساتھ منصوبہ بند اور باقاعدہ طریقے سے کاروائی کے لئے پیش رفت کرنی ہوگی۔
تلنگانہ کی پولیس مستعد ہے اور کوئی فریبی اس کی جال سے نہیں بچ سکتا۔ انہوں نے جناب وقارالدین کے بھانجے سید احمد امیر خان کو یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ اور جب بھی ضرورت محسوس ہوگی وہ ان کا ساتھ دیںگے۔ انہوں نے رہنمائے دکن کی خدمات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا صد سالہ جشن منایا جانا چاہئے۔
جناب عزیز پاشاہ سابق ایم پی نے جناب سید وقارالدین کے ساتھ 40سال سے زائد رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے ساتھ ملک و بیرون ملک دوروں کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ کس طرح سے انہیں بیرون ممالک بالخصوص عالم عرب میں ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ دورانِ علالت فلسطینی سفیر عدنان ابوالہائجہ نے ان کی فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے عیادت کی اور ان کی نماز جنازہ میں بھی صدر فلسطین کی نمائندگی کی۔ اور فلسطینی کاز کے مجاہد کے جسد خاکی کو فلسطینی پرچم میں لپیٹ دیا جو ایک بہت بڑا اعزاز اور حکومت فلسطین کی جانب سے وقار صاحب کی خدمات کا اعتراف ہے۔
جناب ظہیرالدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے وقار صاحب کے اثاثہ جات کو اپنی ملکیت بنانے کی کوشش کرنے والے عناصر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وقار صاحب نے انڈوعرب لیگ کے جو اثاثہ جات چھوڑے ہیں وہ قوم و ملت کی امانت ہیں۔ انہیں حاصل کیا جانا چاہئے۔ اور وقار صاحب کے مشن کو جاری رکھنا چاہئے۔
جناب ظہیرالدین علی خاں نے بتایا کہ جناب وقارالدین نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے تحریک کو تقویت دی۔ مسلم متحدہ محاذ کاقیام ان کا سب سے اہم کارنامہ تھا۔ مولانا عاقلؒ کے ساتھ ملک کر انہوں نے آندھراپردیش، مرہٹواڑہ اور کرناٹک میں عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا۔
فلسینی کاز اور ہند۔عرب دوسری میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جناب سید احمد امیر خاں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جناب وقارالدین کے خواب کو پورا کریںگے۔ رہنمائے دکن کو دوسری صدی میں بھی اپنا سفر جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس موقع پر دستاویزات پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بعض عناصر نے جناب وقارالدین کی علالت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے بینک اکائونٹس سے بھاری رقومات دوسرے اکائونٹس میں منتقل کردی ہیں
۔ ایک ایسے وقت جب کہ وقار پاشاہ ہاسپٹل کے ICU وارڈ میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے‘ نیٹ بنکنگ کے ذریعہ لگ بھگ 20لاکھ روپئے کی رقم نکالی گئی اور ہاسپٹل کے بل تک ادا نہیں کئے گئے۔ انہوں نے ان عناصر سے آخری سانس تک مقابلہ کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے جناب محمود علی سے اپیل کی کہ وہ حق کا ساتھ دیں۔ جناب عثمان الہاجری جو جناب وقارالدینؒ کے ہاسپٹل سے لے کر لحد میں اُتارے جانے تک سرگرم تھے‘ وقار صاحب کو ایک ایسے سچا مجاہد قرار دیا جس نے باطل کے آگے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے۔
ان کی بے لوث محبت، قوم و ملت کے لئے تڑپ، مظلوم کے لئے دردمندی مثالی تھی۔ حیدرآباد کی نائب ایرانی قونصل محترمہ منیٰ ہادیان، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، جناب عنایت علی باقری، منظور احمد، جعفر حسین ایڈیٹر صدائے حسینی، یوسف ہاشمی، ولی اللہ قادری، جناب مقبول احمد رکن انڈوعرب لیگ حیدرآباد، مولانا صابر پاشاہ نے خطاب کیا۔ شفیق اطہر نے شکریہ ادا کیا۔ سید خالد شہباز نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
