جنگ تب ہی رکے گی۔ جب کیف روسی مطالبات پورے کرے گا۔پوتن کی دھمکی

تازہ خبر عالمی

امن مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے تعمیری انداز اپنانے یوکرین کومشورہ
زیلنسکی کا یوکرین کو نو فلائی زون قرار دینے کا مطالبہ
ماسکو: 6؍مارچ
(اے ایم این ایس)
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے 11ویں دن صدر ولادیمیر پوٹن نے آج یوکرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ روس کی فوجی کارروائی اسی وقت رکے گی جب یوکرین ہتھیار ڈالے گا۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرین کو یہ دھمکی ترک وزیراعظم طیب اردگان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران دی۔ پوتن نے کہا کہ یوکرین کو بہتر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ امن مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے تعمیری انداز اپنائے۔

روس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ اسی صورت میں رکے گی جب کیف روسی مطالبات پورے کرے گا۔ روس نے 24 فروری کو کیف کی مغربی طاقتوں سے قربت اور نیٹو میں شامل ہونے کے اقدام پر قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، جنگ کے 11ویں دن کے موقع پر یوکرین پر حملہ کیا۔

ماسکو نے اصرار کیا ہے کہ اس کے حملے اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک یوکرین کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ نہیں کر دیا جاتا اور ملک کو نئے نازیوں سے آزاد نہیں کر دیا جاتا۔

یہاں، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مغربی ممالک سے جنگ روکنے کے لیے یوکرین کو نو فلائی زون قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور کئی مغربی ممالک نے یوکرین کو اسلحے کی کھیپ میں مدد دی ہے لیکن انہوں نے فوج نہیں بھیجی۔

زیلنسکی نے اتوار کو ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ دنیا اتنی مضبوط ہے کہ ہماری فضائی حدود بند کر دے۔ نیٹو ممالک نے نو فلائی زون بنانے سے انکار کر دیا ہے۔