حجاب پر پابندی عزت نفس کے خلاف

تازہ خبر قومی

تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی پرلکچرارمستعفیٰ
بنگلور:18؍فرروری
(زین نیوز)
کرناٹک کے ٹمکور ضلع کے جین پی یو کالج کے ایک لکچرارا نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔لکچرار کا کہنا تھا کہ یہ ان کی عزت نفس کے خلاف ہے، اس لیے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

چاندنی ناز نامی لکچرار گزشتہ تین سالوں سے پی یو کالج میں پڑھا رہی تھیں۔ اس نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ میں یہاں گزشتہ تین سال سے بطور گیسٹ لیکچرر کام کر رہی ہوں، اس دوران کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا، میں آرام سے کام کر رہی تھی، لیکن کل صبح ہمارے پرنسپل نے ہمیں بلایا اور کہا کہ ہمیں حجاب نہیں پہننا چاہیے۔ اسے پہن کر آئیں یا کسی بھی قسم کی مذہبی علامت پہنیں تو پڑھا سکتیں

انھوں نے کہاکہ میں پچھلے تین سالوں سے حجاب پہن کر کالج میں پڑھا رہی تھی۔ لیکن اب جو حکم آیا ہے وہ میری عزت نفس کے خلاف ہے اس لیے میں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ میں اس کالج میں حجاب کے بغیر نہیں پڑھا سکتی۔ چاندنی کا یہ ویڈیو پیغام وائرل ہو رہا ہے اور اس پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

کرناٹک میں تمام طلباء اور اساتذہ سے کہا گیا ہے کہ وہ حجاب یا زعفرانی شال پہن کر تعلیمی اداروں میں نہ آئیں۔ یہ حکم ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے بعد دیا گیا ہے۔

کرناٹک حجاب تنازعہ جمعہ کو بھی حل نہیں ہو سکا۔ لیکن اس دوران کرناٹک حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل (AG) پربھولنگ نوادگی نے بنچ کے سامنے دلیل دی کہ حجاب اسلام کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ یوسف نے دلیل دی کہ اگر یہ ضروری مذہبی عمل نہیں ہے تو بھی حجاب کو روکنا آرٹیکل 25(1) کی خلاف ورزی ہوگی کیونکہ یہ ضمیر کی آزادی بھی ہے۔ اس کی روشنی میں آپ کیا کہتے ہیں، کیا حجاب لازمی مذہبی عمل کے تحت آتا ہے؟

 کیس کی اگلی سماعت 21 فروری کو ہوگی۔ دوسری طرف حجاب پہننے والوں کو کرناٹک کے اسکول کالج میں جمعہ کو بھی داخلہ نہیں دیا گیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کرناٹک میں حجاب کا تنازع چند ہفتہ قبل اُڈپی ضلع سے شروع ہوا تھا، بعد میں یہ ملک گیر بحث کا موضوع بن گیا۔ شدید مظاہروں کے درمیان اسکول اور کالج تقریباً ایک ہفتہ کے لیے بند رہے اور ریاست کے کچھ حصوں میں بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی۔ اس وقت ہائی کورٹ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے اور فی الحال حجاب پر پابندی ہے۔