، علماء اور ممتاز حضرات نے کتاب سے خیالی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا
پبلشر ،مصنف اور اس کے دیگر ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور مذکورہ کتاب کا پورا ایڈیشن واپس لیا جائے
دیوبند:2؍ اپریل
(رضوان سلمانی)
گذشتہ کچھ برسوں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ایک مہم شروع ہوچکی ہے جسکے تحت وقفے وقفے سے کچھ ایسی قابل مذمت اور افسوسناک حرکتیں کی جارہی ہیں جس سے مسلمانان عالم کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔ بظاہر مسلمانوں کے خلاف یہ شرارتیں انفرادی نوعیت رکھتی ہیں لیکن در اصل وہ انفرادی ہوتی نہیں بلکہ ایک منظم اور باقاعدہ سازش اور پروگرام کا حصہ ہوتی ہیں اور اپنا خصوصی مقصد لئے ہوئے ہوتی ہیں کہ مسلمانوں کو کسی بھی طرح خوفزدہ کیا جائے اور ایک انتشار کی کیفیت پیدا کی جائے۔
حال ہی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ایک واقعہ پیش آیا جہاں سہارنپور کے اسکولوں میں پڑھائی جانے والی ایک کتاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر چھاپی گئی ہے جوبے حد شرمناک حرکت ہے جسکی شہرسہارنپور کے علماء اور ممتاز حضرات نے شدید مذمت کی۔ یہ کتاب انکریڈبل ولڈ کے نام سے جانی جاتی ہے جو چوتھی کلاس میں پڑھائی جارہی ہے جو ودھا پرکاشن مندر پرائیویٹ لمٹیڈ دہلی کے ایک مصنف رینو بشنوئی کے ذریعہ منظر عام پر آئی ہے۔
دارالعلوم دیوبند کےمہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اس سلسلہ میں اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی تصویر نہیں ہے اس لئے نبی کریم کی خیالی تصویر بنا کر شائع کرنے سے پورے عالم کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اس لئے یہ مطالبہ ہے کہ مذکورہ پبلشر ،مصنف اور اس کے دیگر ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور مذکورہ کتاب کا پورا ایڈیشن واپس لیا جائے ۔
واضح ہوکہ وسیم رضوی کی جانب سے قرآن کریم کی 26آیات کے متنازع اقدام کا واقعہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں پڑا تھا کہ اب درجہ چہارم کی سوشل سائنس کی کتاب میں نبی کریم ؐ کی خیالی تصویر شائع کرکے ایک بار پھر سے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کارروائی کی گئی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ نئے تعلیمی سال کے درجہ چہارم کے کورس میں شامل سوشل سائنس کی کتاب کے صفحہ نمبر 89پر نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیالی تصویر شائع کئے جانے سے مسلمانوں میں سخت غم وغصہ ہے ۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مذکورہ خیالی تصویر شائع کئے جانے پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر اور انجان بن کر اس طرح کے کام کر رہے ہیں ۔ تاکہ ملک کو بکھرائو کے راستہ پر کھڑا کردیں ۔
انہوں نے مذکورہ کتاب کے پبلشر اور اس سے منسلک پوری ٹیم سمیت مصنف کے خلاف انتظامیہ سے سخت کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ مذکورہ کتاب کو فوراً واپس لیتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے کہ اس طرح کی حرکتوں کے پس پشت اصل منشا کیا ہے ۔ مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی تصویر نہیں ہے لیکن مذکورہ کتاب کے پبلشر اور مصنف نے خیالی تصویر بنا کر مسلم سماج کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کیا ہے ۔ اس لئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔
اسی سلسلے میں شہر کے ذمہ داران اور علماء حضرات کی ایک جماعت جس میں حاجی فضل الرحمن علیگ ایم پی، مظہر عمر، قاضی ندیم اختر، مولانا عبدالمالک مغیثی ضلع صدر ملی کونسل قابل ذکر ہیں نے ضلع مجسٹریٹ اکھلیش سنگھ سے ملاقات کی اور انکو ایک میمورنڈم سونپا جس میں کتاب سے حضور پاک کی تصویر ہٹائے جانے کا مطالبہ کیاگیا اور اس حرکت کرنے والے پر کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔
اس موقع پر ایم۔پی حاجی فضل الرحمن علیگ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی متعدد بار ایسی مذموم حرکات کی گئیں جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی خیالی تصویر بنائی گئی تھی تاکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جائے لیکن ایسے لوگ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونگے اور ان چیزوں کے خلاف ہم قانونی راستوں کو اختیار کرینگے۔قاضی ندیم اختر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکت یقینا قابل افسوس ہے،
یہ ایسے لوگ ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف توہین رسالت اور مسلمان دشمنی ہے۔ بعد ازاں (مولانا ڈاکٹر) عبدالمالک مغیثی ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل نے اس حرکت کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مسلمان ایسی کوئی حرکت یا عمل نہیں کرسکتا جس سے کسی دوسرے مذہب کے پیشوا کی توہین یا اسکے ماننے کے جذبات مجروح ہوں لیکن جس طرح مذہب اسلام میں دیگر مذاہب کے پیشوائوں کے توہین کرنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح پوری انسانیت کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جاسکتی،حالات کا تضاضہ ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ اس طرح کی حرکت کرنے والوں کے خلاف سزا کیلئے سخت قانون وضع کرے تاکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا سلسلہ بند ہوسکے اور مسلمانوں کے دلی جذبات مجروح نہ ہوں۔میمورنڈم دینے والوں میں حاجی فضل الرحمن علیگ ایم پی، مظہر عمر، قاضی ندیم اختر نائب شھر قاضی، مولانا عبدالمالک مغیثی ضلع صدر ملی کونسل سھارنپور،مولوی فرید مظاھری، امید خاں سروہا، عاقل فاروق ایڈوکیٹ،،امجد علی ایڈووکیٹ،وجاھت علی خاںاورمستقیم راؤشریک رہے۔
(بشکریہ ہندوستان اُردو ٹائمز)
