ٹی آرایس حکومت قتل کی مرتکب، محمد علی شبیر کی مخاطبت
حیدرآباد: 7 ؍جون
(زین نیوز)
کانگریس پارٹی نے پیر کو مطالبہ کیا کہ تلنگانہ حکومت کورونا سے متاثرہ مریضوں اور بلیک فنگس سے متاثرہ افراد کا مفت علاج کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر ایک کو بروقت ٹیکے لگائے جائیں۔سابق وزیر اور تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کے سابق لیڈر مسٹرمحمد علی شبیر نے پیر کو گاندھی بھون میں ‘ستیہ گرہ دیکشا’ سے خطاب کیا یہ ستیہ گرہ ملک بھر میں عالمی پھیلی عالمی وباء پر روک لگانے کے لیۓ مفت کوویڈ ویکسینیشن دینے کی مانگ کو لیکر کی گئ۔
انہوں نےمرکز میں بی جے پی حکومت اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کی کوڈ ویکسین میں سست روی پر غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔قبل ازیں ٹی پی سی سی صدر کیپٹن اتم کمار ریڈی ، سی ایل پی میں کانگریس کے رہنما ملو بھٹی وکرمارکا اور دیگر سینئر قائدین نے خطاب کیا۔اس موقع پر مسٹر محمد علی شبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6 جون 2021 تک ، تقریبا3.4 کروڑ ویکسین کی خوراک کی ضرورت تھی ، لیکن صرف 66 لاکھ 95 ہزار 704 ویکسین کی خوراکیں فراہم کی گئیں۔

اس میں سے ، 13.03 لاکھ ویکسین دوسری خوراک تھی۔ تلنگانہ میں 18 سال سے اوپر عمر کی آبادی کو ٹیکے لگانے کے لئے 2.73 کروڑ روپے سے زائد کی ضرورت ہے۔ اب تک روزانہ صرف 47،152اوسطا ویکسینیشن دیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ "اگر ویکسین کی مہم سست روی کا شکار رہی تو ریاست کی پوری آبادی کو اس سے مستفید کرنے میں تقریبا 580 دن یا 19 ماہ لگ جائیں گے۔”مسٹر محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کی کہ وہ ویکسین میں اضافہ اور تلنگانہ کے تمام لوگوں کو ویکسین دینے کے لئےمرکز پر دباؤ ڈالنے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے۔
ویکسین کے لئے چیف منسٹر کے ۔چندر شیکھر راؤ کی جانب سے عالمی ٹنڈر طلب کر نےکو وقت ضائع کرنے کاالزام لگایااور کہاکہ اس سے کے سی آرحکومت کو مطلوبہ ایک بھی ویکسین نہیں مل سکی۔ ویکسین کی زیادہ مقدار خریدنے میں لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے مبینہ طور پر غلط بیانی سے کام لیاجارہا ہے۔ انہوں ریمارک کیا کہ کے سی آر حکومت شروع سے ہی کوویڈ 19 کے بارے میں لوگوں کو گمراہ کررہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب یکم مارچ 2020 کو تلنگانہ میں کورونا وائرس کا پہلا کیس درج ہوا تو اسمبلی میں یہ اعلان کرتے ہوۓ گمراہ کیا گیا کہ پیراسیٹیمال کا اسعمال ہی کافی ہے۔ لوگوں نے بدقسمتی سے اس پر یقین بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے حکومت کی طرف سے دیئے گئے لاپرواہ بیانات پراعتماد کیاان کو شدید نقصان بھی پہنچا۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے غیر زمہ دارانہ بیانات کے نتیجہ میں ، ریاست بھر میں عوام کی بڑی تعداد کوروناکی ذد میں آگئ جس کی وجہ سے بڑی تعدارد میں انسانی جا نوں کااتلاف ہوا۔لاکھوںافراد متاثرہوکر ہاسپٹلس میںبے یارومددگارپڑے رہے۔
پہلے مرحلہ کے کورونا کے دوران کفایت شعاری اقدامات کی کمی ، طبی خدمات کے لئے بنیادیسہولتوں کےفقدان اور موجودہ طبی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے میں ناکامی جیسے عوامل سے عوامی صحت کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے بنیادی ڈھانچے یا افرادی قوت میں اضافہ کو نظرانداز کیا ہے جس کے نتیجہ میں ، ریاست بھر میں 5.91 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوۓ ، جس نے دسیوں ہزار افراد کی جانیں لی ہیں۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کوروناکی اموات کے لئے کے سی ارکو ذمہ دار ٹھہرانے کی مانگ کی اور ان کے خلاف قتل عام کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے یاددلایاکہ چیف منسٹر نے 14 مارچ 2020 کو اسمبلی میں اعلان کیا کہ کویڈ ۔19 کو کنٹرول کرنے کے لئے ریاستی حکومت ایک ہزار کروڑ روپئے خرچ کرے گی۔ اب تک بھی وہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ پر قابو پانے کے لئے سخت ترین اقدامات :
تب سے ٹی آر ایس حکومت بھاری چندہ جمع کررہی ہے مگرابھی تک بھی اس کی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ سی ایم کے سی آر نے 9 ستمبر 2020 کو اسمبلی میں اعلان کیا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے علاج کو آرگیاشری اسکیم میں شامل کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس اہم ترین بیان کو بھی دن کی روشنی میں نظر اندازکیاگیا۔انہوں نے ارگیہ شری میں کورونا کو شامل نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ، یہ جانتے ہوئے کہ کورونا وائرس میں مبتلا افرادکے علاج کے لئے اپنے گھر اورزیوارات کو بیچنا پڑے گااور ساری بچت علاج پر خرچ ہوگی حکومت نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اس کے باوجودعوام اپنے زیوارات فروغ کرکےعلاج کروانے جاتے بھی ہیں توحکومت خانگیدواخانوں کے استحصال کو روکنے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کے سی آر کے ماضی دۓ گۓ بیان کی مذمت کی جنہوں نےکورونا متاثرین کے خانگی اورکارپوریٹ ہاسپٹلس یں مفت علاج کاوعدہ کیا تھا تا کہ ان کے استحصال پر روک لگائ جاسکے۔ان کے وعدہ اعتماد نے آج لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کو تباہ کردیا۔سیاہ فنگس کیسس پر بات کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ بڑھتی ہوئی فنگس کیسوں سے نمٹنے کے لئے ریاستی حکومت نے کوئی اقدامات نہیں اٹھاۓ اور اس خدشہ کا اظہار کیا کہ یہ سیاہ فنگس ایک بہت بڑی وبا کی شکل اختیار کر ےگا۔