حیدرآباد: 3؍ستمبر
(زین نیوز)
شیخ پیٹ کے سابق ایم ارو سجاتا کی مشتبہ حالات میں موت ہوگئی۔سابق تحصیلدار سجاتا، جنہیں 2020 میں بدعنوانی کے الزام میں انسداد بدعنوانی بیورو نے بنجارہ ہلز اراضی کیس گرفتار کیا تھا، ہفتہ کی صبح اپنے گھر پر مشتبہ حالات میں مردہ پائی گئی۔خودکشی کے ذریعہ موت کی خبریں گردش کر رہی ہیں حالانکہ پولیس ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کرسکی ہے۔
2020 میں، سجاتا کوشیخ پیٹ منڈل میں تحصیلدار کے طور پر کام کرتے ہوئے اے سی بی نے گرفتار کر لیا اور چنچل گوڑہ میں خواتین کے لیے خصوصی جیل میں بند کر دیا گیا۔ جب وہ جیل میں تھیں تواس معاملے میں سخت ذہنی تناؤ کا شکار سجتا کے شوہر اجے نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق، سجتا اپنی زندگی میں اچانک آنے والے واقعات سے ڈپریشن میں چلی گئی تھی۔ سجاتا جو اپنی گرفتاری اور پھر اپنے شوہر کی موت کی وجہ سے دو سال تک شدید جذباتی پریشانی کا شکار تھیں نے آج حیدرآباد میں خودکشی کرلی۔ پہلے تو کہا گیا کہ اس نے خودکشی کی ہے لیکن بعد میں کہا گیا کہ اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ پولیس اس کی موت کو مشتبہ قرار دے رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد مکمل تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔
بنجارہ ہلز کے روڈ نمبر 14 پر زمین کے تنازعہ میں سید خالد نامی شخص نے تحصلدار سجاتا‘ ریونیو انسپکٹر اور بنجارہ ہلز انسپکٹر کو اے سی بی کے ہاتھوں پکڑوایا تھا ۔ جون 2020 میں اس معاملہ نے پوری ریاست تلنگانہ میں سنسنی پیدا کر دی، تحصیلدارسجتا کے شوہر اجے نےسجاتا گرفتاری کے دس دن بعد پانچ منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔اس معاملے میں، سید خالد کو اگست 2020 میں اے سی بی حکام کی شکایت پر جعلی دستاویزات بنانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ دسمبر 2019 میں پرانی بستی کے رہنے والے سید خالد نے شیخ پیٹ تحصیلدار کے دفتر میں بنجارہ ہلس روڈ نمبر 14 پر 1.20 ایکڑ اراضی کے دوبارہ سروے کے لیے درخواست دی۔ چونکہ حکام نے کوئی جواب نہیں دیاتو اس نے 5 ماہ قبل زمین کو اپنا ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بورڈ لگا دیا۔ تحصیلدار سجاتا نے بنجارہ ہلز پولس اسٹیشن میں سرکاری اراضی پر قبضہ کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی۔
اس کے ساتھ ہی خالد نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جیسے کی تفتیش جاری تھی، ایس آئی رویندرنائیک نے یہ کہتے ہوئے رقم کا مطالبہ کیا کہ کیس معاف کر دیا جائے گا۔ آر آئی ناگارجن نے خالد سے یہ بھی کہا کہ اگر وہ 50 لاکھ روپے دے گا تو وہ زمین کو اس طرح لکھ دے گا جیسے یہ آپ کی ہے۔ اس کے بعد اے سی بی حکام نے اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر لیا۔