از:فہیم الدین
سنیئرجرنلسٹ
faheemuddin.m@gmail.com
تلنگانہ میں خانگی اسکولوں کے سروے کے دورا ن جو کورونا سے پہلے منعقد کئے گئے تھے حقیقت پر مبنی چند ایک حیرت انگیز واقعات منظر عام پر آئے ہیں اس سروے کامحکمہ تعلیمات کی جانب سے اہتمام کیا گیاتھا۔ محکمہ کی ٹیموں نے نامور و شہرت یافتہ اسکولوں کا دورہ کرکے مختلف اُمورکا جائزہ لیا توپتہ چلا کہ محکمہ تعلیمات کی جانب سے جاری کردہ احکامات و شرائط وقواعد پر عمل کوئی بھی ادارہ عمل نہیں کررہا ہے۔نصابی کتب سے لے کر ایام اوقات کار کی یہی صورت حال دیکھی گئیجہاں تک نصابی تعلیم کا معاملہ ہے اس کی حالت تو اور بھی ابترہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دسویں جماعت میں زیر تعلیم جملہ طلبا میں سے 25% طلبہ ایسے ہیں جو اپنے ہی مضمون حساب کرنے سے قاصر ہیں جن میں سے اکثریتی طلبہ اس سے لا علم ہیں جبکہ 40%ایسے طلبہ کی شناخت ہوئی ہے جن کو دیکھ کر پڑھنا تک نہیں آتا۔سروے کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ مذکورہ اسکولوں میں ایکمضمون کے ماسوا دوسرے مضامین کے کتب کو نصاب کے لئے استعمال میں نہیں لایا جا رہا ہے جبکہ ان کتب کی بھی حکومت طباعت عمل میں لا رہی ہے۔
قدم قدم پر خلاف ورزیاں:
دسویں جماعت کے طلبا کو صرف لکیر کا فقیر بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔نصاب میں ان کو ماہر اور شعور بیدار کرنے کی طرف توجہ دینے سے متعلق تقریباً ادارے قاصر ہیں۔ جی او نمبر 17 کے مطابق گائیڈس کے استعمال پر امتناع عائد ہے۔اس کے باوجود خانگی تعلیمی ادارے مذکورہ قانون کی صریحاًخلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔طلبا کی صلاحیتوں کو ابھارنے پر توجہ دینے کے بجائے امتحانات کی تیاری کے لئے گائیڈس اور اسٹیڈی مٹیریل کی تقسیم کو اپنا فریضہ سمجھنے لگے ہیں۔یہاں اس امر کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ ایس ایس سی کے امتحانات میں 20% انٹرنل نمبرات کو روشناس کروانے سے ہر کس و نہ کس واقف ہے جس کو محکمہ تعلیمات نے نافذ کیا ہے جو محکمہ تعلیمات کا ایک نیا طریقہ بھی ہے۔اس کے مطابق پڑھنے اور لکھنے‘کھیل اور کود‘گانے بجانے کے بشمول تکمیل نصاب کے تئیں کوتاہی برتی جا رہی ہے۔سروے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کوئی بھی اسکول قانون حق لازمی تعلیم پر عمل آروی میں سنجیدہ نہیں دکھائی دیا۔نصاب کے ساتھ دوسری قسم کی سرگرمیوں میں طلبہ کو مشغول کرنے میں بیشتر تعلیمی ادارے ناکام ثابت ہورہے ہیں ۔پرائمری اسکولس کی سطح پر تو من مانی ‘ذاتی نصاب کارواج اور اپنے طور پر شائع کردہ نصابی کتب کے استعمال کی اجاراداری بدستور برقرار ہے۔اسکے باوجود حیرت کی بات ہے کہ محکمہ تعلیمات سے وابستہ سروے عہدیدار قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب اسکولوں کے خلاف کاروائیسے قاصر رہے ہیں۔چند ایک تعلیمی اداروں کی تنقیح توکی گئی مگرماباقی اسکولوں کی تنقیح میںایسی سرگرمیوں کا فقدان دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں ۔ ان میں رشوت بھی ایک ہے بعض حلقوں سے یہ اطلاع ملی ہیکہ ٹیم کے چند ایک ارکان کی جیب گرم کی گئیں جس کی وجہ سے یہ عہدیدار ایسے اداروں کی برائے نام تنقیح کی ہے۔
کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا ۔ مگر بعض ادارے آن لائن کلاسس کا اہتما م کر کے فیس بٹوررہے ہیں جو کہ کورونا پروٹوکال کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حکومت ابھی بھی تعلیمی اداروں کو کھولنے کی اجازت نہیں دی۔البتہ محکمہ تعلیمات نے حکومت کو ایک تجویز روانہ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کی کشادگی کیلئے دو تین تواریخ دی ہے تاہم مرکزی حکومت اورمحکمہ صحت سے گرین سگنل ملنے کے بعد ریاستی حکومت قطعی فیصلہ لے گی۔
