دسہرہ ریلیوں سے پہلے ادھو اور شندے کے حامیوں میں تصادم

تازہ خبر قومی
ٹھاکرے حامی خواتین نے شنڈے گروپ کے کارکنوں کی پٹائی کی
 ممبئی:۔5؍اکتوبر
(زیڈ این ایم ایس)
مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں بدھ کو دسہرہ ریلی کے انعقاد سے قبل تصادم ہوا۔ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت شیو سینا کے چند حامیوں کی ممبئی میں دسہرہ ریلیوں سے قبل مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور ان کے دھڑے کے حامیوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ شیوسینا کے 56 سال پہلے قیام کے بعد پہلی بار، پارٹی کے حریف دھڑوں کی طرف سے بدھ کو ممبئی میں دو دسہرہ ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔
یہ واقعہ ناسک۔آگرہ ہائی وے پر اس وقت پیش آیا جب ادھو سینا کی خواتین حامیوں کا ایک گروپ ریلی میں شرکت کے لیے ناسک سے ممبئی جا رہا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شندے گروپ کے حامیوں نے جس بس میں وہ سفر کر رہے تھے اسے اوور ٹیک کرتے ہوئے قابل اعتراض اشارے کئے۔
 اس کے بعد ادھو گروپ کے حامیوں نے شندے گروپ کے پیروکاروں کی پٹائی کی۔۔واضح رہے کہ ممبئی میں ٹھاکرے دھڑے کو دادر کے شیواجی پارک میں دسہرہ ریلی اور بی کے سی میدان میں شنڈے دھڑے کو اجازت دی گئی ہے۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ ناسک آگرہ قومی شاہراہ پر واقع اگت پوری۔کسرا شیوارا کا ہے۔ خبر کے مطابق ناسک آگرہ قومی شاہراہ پر بولیرا میں سوار شنڈے دھڑے کے کارکنوں نے ایک بس کا پیچھا کیا اور اسے اوور ٹیک کیا۔ اس بس میں ممبئی کے شیواجی پارک میں ٹھاکرے دھڑے کی طرف سے منعقد کی گئی دسہرہ ریلی میں شامل خواتین سوار تھیں۔
 الزام ہے کہ بس کو اوورٹیک کرتے وقت شندے گروپ کے کارکنوں نے بس میں بیٹھی خواتین سے گندے اشارے کئے۔ اس کے بعد ٹھاکر کے حامیوں نے بولیرو کو روک کر شنڈے گروپ کے کارکنوں کی پٹائی کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ادھو ٹھاکرے نے ممبئی کے دادر میں شیواجی پارک میں دسہرہ ریلی کے انعقاد کے لیے تمام علاقائی انچارجوں کو 227 وارڈوں میں سے ہر ایک سے چار بسوں میں کارکنوں کو لانے کی ذمہ داری دی ہے۔ اس ریلی میں کم از کم 50 ہزار افراد کے جمع ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ممبئی کے علاوہ، ادھو کے حامی مغربی مہاراشٹر، مراٹھواڑہ وغیرہ سے بھی ٹرینوں کے ذریعے شیواجی پارک پہنچیں گے
دوسری طرف شیو سینا کا ایکناتھ شندے گروپ بھی بی کے سی گراؤنڈ میں ہونے والی ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے۔ ناک کا سوال یہ ہے کہ اگر ادھو دھڑا شیواجی پارک میں 50 ہزار لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہیں تو بی کے سی میدان میں اس سے کم کیسے ہو سکتا ہے جب ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ ہیں؟