میں پوری زندگی جی چکا ہوں.
آہ…….. مفتی الیاس ہاشمی ندوی نظام آباد علیہ الرحمۃ
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد
9505057866
شہرنظام آباد وباء کی لپیٹ میں ہے لگتا ہے اجل ہرنفس کے انتظارمیں گھات لگای ہوی ہے جس کے پاس نہ عمر کی قید ہے نہ علم وفضل کوی رکاوٹ نہ ہی چاہنے والے حائل بس حکم خداوندی ہے اور نشانہ
کچھ اس طرح ہی وباء کے شکار میرے رفیق درس ہم عمر قابل ولائق دوست علمی تفوق وبرتری کے مالک انتہای سلیقہ مند وضعدار عالم دین مولانامفتی الیاس ہاشمی ندوی ہوے اور ایک داغ مفارقت دے گےء
اناللہ واناالیہ راجعون
اللہ پاک غریق رحمت فرماے رفع درجات اور اپنے فضل خاص کا معاملہ فرماے بیس رمضان المبارک پیر کادن تھا دوپہر تقریبا تین بجے اطلاع ملی کہ موصوف کی طبعیت کچھ زیادہ ہی ناساز ہے شہرنظام آباد کے ایک خانگی ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں تو دل ہی دل میں دعاء کرتا رہا کہ اے اللہ اس نوجوان باکمال عالم دین کو آخر کیا ہوگیا اسی سراسیمگی کے عالم میں موصوف کو فون کیا لیکن کوی جواب نہ آیا پھر یکایک افق ذہن پر مختلف قسم کے خیالات ابھرنے لگے شہر کے ایک اور ذی اثر صاحب کے پاس پہونچا معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ابھی ان کے معالج سے بات ہوی آکسیجن لیول 40 بتارہا ہے تو دل نے مزید خوف محسوس کیا اور باربار دعاؤں کے جملے دہراتارہا اسی دوگھنٹہ کے درمیان نماز عصرکے لےء جوں ہی مسجد پہونچا موبائیل سائلینٹ موڈ پر ڈالنا ہی چاہا کہ یہ اندوہناک خبر پڑھا موصوف اس دنیاسے رخصت ہوگےء اور اپنے خالق حقیقی سے جاملے
اللہ اکبر کچھ دیرکے لےء تو یقین ہی نہیں آیا اوردل اس خبر کو قبول کرنے کے لےء آمادہ ہی نہیں ہوا پھر انہی مذکورہ صاحب سے تصدیق کروایا اثبات میں جواب ملا
بہرکیف
اللہ کی کیامرضی ہے اورکیا اس دنیا میں ہونے والا ہے اور کیا ہورہا ہے بس فیصلہ خداوندی پر راضی رہنا ہی ہماراایمان ہے
مجھے آج بھی وہ زمانہ یاد ہے جب شہرنظام آباد کے مرکزی مدرسہ
ادارہ مظہرالعلوم میں آپ زمانہ طالب علمی سے ہی اپنی لیاقت وصلاحیت کا لوہا منوالیا تھا مولاناسید ولی اللہ قاسمی صاحب علیہ الرحمۃ کے آپ قابل اعتماد انتہای بھروسہ مند طلباء میں سے تھے بارہا آپ کی ذہانت کی مثالیں مولانامرحوم تقریبا طلباء سے خطاب والی ہر مجلس میں دیا کرتے تھے زمانہ طالب علمی سے ہی آپ کو شوق مطالعہ وذوق تحقیقات اور مختلف قسم کی تنقیحات سے دلچسپی تھی انگریزی زبان پر بھی کافی عبور تھا اردودانی وعربیت سے بھی والہانہ تعلق رکھتے تھے شعبہ حفظ کے بعد عالمیت کے ابتدای چند سال اسی مدرسہ میں پڑھے اور علمی ترقیات کے حصول کی غرض سے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا جہاں پر بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ طلباء میں اپنا مقام بنایا جس کی گواہی آپ کے معاصرین بھی دیا کرتے تھے
ہرگام وہرقدم اپنے استاذمولانا سید ولی اللہ قاسمی سے مشاورت کرتے حتی کے گھریلو مسائل میں بھی آپ ہی سے استفسار کے بعد کوی قدم اٹھاتے شاید اسی والہانہ تعلق کی بناء پر موصوف نے انتقال سے پہلے اپنے برادر سے کہے کہ مجھے ولی اللہ صاحب بلارہے ہیں اور آنے کا راستہ بتارہے ہیں اور میں نے اپنی مکمل زندگی جی لی ہے
یہ بھی پڑھیں: شہسوارِ قرطاس و قلم’ مالکِ لوح و قلم سے جا ملا !
مضمون نگاری ونثر نگاری کابھی اچھاسلیقہ رکھتے تھے جن کا ایک یادگار نثری کلام جو اپنے مرحوم استادکے حوالہ سے آپ نے لکھا تھا وہ
محاسن ولی اللہ کتاب میں موجود ہے جن کاکلام چھپ نے سے پہلے ہی موصوف ہم سے چھپ گئے
مجھے یادآرہا ہیکہ جامع مسجد نظام آبادمیں فراغت کے سال ہی مولاناکے ہمراہ ملاقات ہوی اس وقت بھی مولانانے موصوف کی اعلی صلاحیت کا ذکر کیا اور مجھ سے فخریہ انداز میں فرمایا کہ الیاس ہاشمی ندوۃ کے قابل تلامذہ میں سےہیں
بہر کیف
ایک نوجوان جید حافظ قرآن بہترین عالم دین گوناگوں صلاحیتوں کاحامل سچا دوست ہم سے جداہوگیا اس موقع پر اس بات کابھی ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ مولانا ولی اللہ قاسمی کے انتقال کے بعد موصوف کو ادارہ مظہرالعلوم کی مجلس شوری میں شامل کیا گیاتھا
اللہ پاک استاد وشاگرد کے اس گہرے رشتہ اور تعلق کو جنت میں بھی باقی رکھے دونوں کی مغفرت فرماکر اعلی علیین میں جگہ نصیب فرماے
آمین
