مولانا ہاشم قاسمی
اپنے جلسہ جلوس میں علاقائی علماء کرام کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا چاہئے جن سے کسی بھی حالات میں رابطہ کرنااور ان سے استفادہ کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ دور دراز کے علماء کرام سے علاقائی لوگ نہ مل سکیں گے، اور نہ ہی کسی موقع پر استفادہ البتہ کسی صاحب نسبت بزرگ کو اگر اپنے جلسوں میں بلایا جائے تو ان سے عمومی استفادہ ممکن ہوتا ہے۔
اپنے جلسوں کو پیشہ ور نقیب اور شاعر سے بالکل پاک کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے پورے جلسہ کا ماحول بگڑ جاتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب شاعر کو اسٹیج پر دعوت دی جاتی ہے تو پورا مجمع یکجا ہو جاتا ہے اس کے بعد کوئی شیخ الحدیث علامہ ہی کیوں نہ ہو سامنے سے مجمع خالی ہونے لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نام نہـــــاد شعــــرا کو دینی جلـــسوں سے دور رکھیں ❇️
یہ علماء کرام اور بزرگان دین کی توہین کے مترادف ہے جلسہ میں نعت رسول پڑھنے کے لئے طالب علم یا کوئی حافظ عالم یوں تو زیادہ بہتر ہے ۔
آجکل نقیب خود کو جلسہ کا مالک تصور کرتا ہے اور ہر مقرر پر بے جا تبصرہ کرکے تضیع اوقات کے علاوہ کچھ نہیں کرتا اس لئے اس سے بھی اجتناب ضروری ہے جلسہ میں علماء ، صلحاء، صاحب نسبت بزرگ۔ مخلص لوگوں کو ہی اسٹیج پر جگہ دینے کی ضرورت ہے