راجہ سنگھ کومشروط‘ضمانت‘ تین ماہ تک اشتعال انگیز ویڈیو پوسٹ پر پابندی

تازہ خبر تلنگانہ

بی جے پی کی مرکزی قیادت کے فیصلہ کا انتظار کئے بغیر ریاستی قیادت کی پشت پناہی

حیدرآباد:۔9؍نومبر
(زین نیوزبیورو)

بی جے پی کے معطل گوشہ محل ایم ایل اے راجہ سنگھ کو بالآخر ضمانت مل گئی ہے۔ وہ 40 دنوں سے جیل میں تھے اور انہیں تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج مشروط ضمانت دی ہے۔

  ڈیویژن بینچ نے تمام شرائط کو برقرار رکھا اوراشتعال انگیز تبصرے سے گریز ‘ چیر لہ پلی جیل سے رہائی پرجلوس نہ نکالنے‘ تین ماہ تک سوشیل میڈیاویڈیوزکوپوسٹ نہ کرنا‘ کا حکم دیا۔

ایڈوکیٹ جنرل مسٹر بی ایس پرساد نے کل ہائی کورٹ کو بتایا کہ اگر راجہ سنگھ کو جیل سے رہا کیا جاتا ہے تو امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔

  ایم ایل اے راجہ سنگھ پر پی ڈی ایکٹ لگانے پر ہائی کورٹ میں کل کافی دیر تک بحث ہوئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ راجہ سنگھ نے ایک مخصوص طبقہ کی توہین کرنے کیلئے تبصرے کئے تھے اورراجہ سنگھ کے خلاف پہلے ہی 101 مقدمات درج ہیں، جن میں سے18 معاملے مذہبی منافرت کو ہوا دینے سے متعلق ہیں۔

  اگر راجہ سنگھ اس وقت باہر آئے تو امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ایڈوکیٹ جنرل نے ہائی کورٹ کو یاد دلایا کہ حیدرآباد میں  ایک طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے سابق میں راجہ سنگھ کے شر انگیز اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے تبصروں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

  ایڈوکیٹ جنرل مسٹر پرساد نے دلیل دی کہ راج سنگھ کے خلاف پی ڈی ایکٹ حق بجانب ہے۔دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل مسٹرروی چندر نے دلیل دی کہ ایم ایل اے راجہ سنگھ کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔

راجہ سنگھ نے وضاحت کی کہ اس نے کسی مذہب کی توہین نہیں کی اور نہ ہی کسی مذہب کو نشانہ بنایا۔انہوں نے صرف ایک ڈرامہ پیش کیا جس کا نام چائلڈ میرج تھا۔ راجہ سنگھ نے واضح کیا کہ کہیں بھی لفظ محمد رسول ﷺکا ذکر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ راجہ سنگھ کے خلاف سیاسی  انتقامی جذبہ کے تحت پی ڈی ایکٹ لگایا گیا۔مسٹر روی چندر نے عدالت کو بتایا کہ نامپلی عدالت نے ریمانڈ کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا اور اس لئے پولیس نے پی ڈی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔

 یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس سال اگست میں راجہ سنگھ نے خبردار کیا تھا کہ اگر متنازعہ اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا شو، جس میں ہندو دیوتاؤں کی توہین کی گئی تھی، تلنگانہ میں منعقد ہوا تو ان کے کام کیلئے پریشانی ہو گی۔

تاہم، تلنگانہ حکومت نے بھاری سیکورٹی فراہم کی اور منور فاروقی کے شو کی اجازت دی۔ اس سے ناراض راجہ سنگھ نے 22؍اگست کو ایک متنازعہ ویڈیو جاری کیا۔ 

 حیدرآباد میں مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کے ساتھ ہی راجہ سنگھ  کے خلاف 25؍اگست کو مقدمہ درج رجسٹر کے گرفتار کر لیا گیاتھااور اس کے خلاف پی ڈی ایکٹ لگایا گیا۔

بدنام زمانہ راجہ سنگھ کے اس بیان کے بعد بی جے پی کی اعلی قیادت نے فوری اثر کے ساتھ پارٹی سے معطل کرکے نوٹس وجہ نمائی جاری کرتے ہوئے اندرون دس یوم وضاحت طلب کی تھی تاہم جیل میں محروسی کی وجہ سے انہوں نے مزید وقت مانگاتھا۔

مگر حیرت کی بات ہے کہ پارٹی کی ریاستی قیادت اور اس کے قبیل کے چند ایک قائدین کی اسے مدد حاصل رہی ۔ گنہگار کی بیوی اوشا رانی نے دودن قبل ہی ریاستی سدر مسٹر بنڈی سجنے سے ملاقات کرکے اس کے شوہر کی رہائی

اور پارٹی میں برقراری کی خواہش کی تھی جس پر سنجے نے پارٹی قیادت کے قطعی فیصلہ کا انتظار کئے بغیر ہسٹر شیٹر راجہ سنگھ کی حمایت میں اعلی کمان کو ایک مکتوب کے تحریرکرنے کی اطلاع ہے۔