ٹوئٹر مودی حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔کانگریس
نئی دہلی:21؍اگسٹ
(زین نیوز)
کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سمیت کئی رہنماؤں کے اکاؤنٹس کے بعد اب کانگریس پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ جمعرات کو کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اس کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے ، لیکن ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔
کانگریس نے کہا کہ جب ہمارے لیڈروں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہم خوفزدہ نہیں ہوئے تو اب ٹوئٹر ‘اکاؤنٹس بند کردینے سےکیساخوف ؟۔ ہم کانگریسی ہیں یہ عوام کا پیغام ہے ، ہم لڑیں گے ، ہم لڑتے رہیں گے۔ اگر زیادتی کا شکار لڑکی کے لیے انصاف حاصل کرنے کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے تو ہم اس جرم کو سو مرتبہ کریں گے۔ جئے ہند ۔ستیامیو جئےتے۔
حالیہ دنوں نے ٹوئٹر کی جانب سے راہل گاندھی کا ‘اکاؤنٹ بند کردیا گیا تھا۔ اس سے قبل راہل گاندھی نے نو سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے سلسلے میں دہلی میںمتاثرہ کے خاندان سے ملاقات کی تھی اس میٹنگ کو ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔
راہول گاندھی کے ٹویٹ کے خلاف بچوں کے قومی کمیشن کی شکایت کے بعد ٹوئٹر نے نہ صرف راہل گاندھی کا ٹویٹ ہٹایا بلکہ عارضی طور پر ان کے اکاؤنٹ پر پابندی بھی لگا دی۔
ٹویٹر کے ذریعہ مودی حکومت پر روزانہ حملہ کرنے والے راہل گاندھی پابندی کی وجہ سے دو دن تک ٹویٹ نہیں کر سکے۔راہول گاندھی ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جنرل سکریٹری اور سابق مرکزی وزیر اجے ماکن ، لوک سبھا میں پارٹی کے وہپ مانیکم ٹیگور ، آسام انچارج اور سابق مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کے علاوہ ان کانگریس رہنماؤں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس بھی بند ہیں۔
مہیلا کانگریس کی صدر سشمیتا دیو کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بندکردیا گیا۔کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر مودی حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے
کانگریس کے سوشل میڈیا کے سربراہ روہن گپتا نے کہا کہ ٹوئٹر کے مطابق قواعد کی خلاف ورزی پر پارٹی کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ٹویٹر حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ اس نے پہلے ہی پورے ہندوستان میں ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں کے 5000 اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا ہے۔ انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم پر ٹوئٹر یا حکومت کا دباؤ نہیں چلے